موسم گرما کی آمد تک پینے کے پانی کی سربراہی میں کوئی مشکل نہیں: محکمہ آبرسانی
حیدرآباد۔30۔ستمبر۔(سیاست نیوز) عثمان ساگر و حمایت ساگر ذخائر آب کی سطح میں کمی تشویش کا باعث ہے۔ محکمہ آبرسانی کے علاوہ زیر زمین سطح آب پر نظر رکھنے والے عہدیداروں میں بھی ریاست میں پینے کے پانی کے موقف سے متعلق تشویش پائی جانے لگی ہے۔ محکمہ آبرسانی کا کہناہے کہ دونوں ذخائر آب کی سطح آب میں کمی کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں ذخائر آب سے جن علاقوں کو پینے کے پانی کی سربراہی عمل میں لائی جاتی ہے ان علاقوں میں موسم گرما کی آمد تک پانی کی سربراہی میں کسی بھی طرح کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے لیکن موسم گرما کے دوران پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سال گذشتہ کے مقابلہ میں جاریہ ستمبر کے دوران دونوں ہی ذخائرآب میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سال گذشتہ ستمبر کے دوران حمایت ساگر میں 1762 فیٹ سطح آب ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ حمایت ساگر کی مکمل سطح آب 1763 ہے لیکن جاریہ سال ستمبر کے دوران حمایت ساگر کی سطح آب مجموعی طور پر 1761 فیٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ عثمان ساگر (گنڈی پیٹ) میں سطح آب گذشتہ ستمبر کے دوران 1788فیٹ ریکارڈ کی گئی تھی جو جاریہ سال ستمبر کے دوران 1783.60 فیٹ ر ہی۔ بتایاجاتاہے کہ کمزور مانسون کے نتیجہ میں پیدا شدہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ریاستی حکومت کو محکمہ آبرسانی نے مختلف تجاویز روانہ کردی ہیں اور جلد ہی دونوں شہروں میں پینے کے پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں پیدا ہونے والے مسائل پر خصوصی جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جانے کا امکان ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہا ہے کہ جاریہ سال ماہ فروری سے ہی مسلسل پانے کے ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے لیکن ماہ جون کے بعد ٹینکرس کی طلب میں کمی ریکارڈ کئے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی لیکن کمزور مانسون کے نتیجہ میں حالت مزید ابتر ہوچکی ہے اور حیدرآباد کو پینے کا پانی سربراہ کرنے والے ذخائر آب سنگور‘ منجیرا‘ کرشنا ندی پر اکم پلی اور گوداوری کے ایلم پلی میں بھی سطح آب میں مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔3