ایس آئی آر کے خلاف آج ملک گیر احتجاج

   

’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ نامی اتحاد کا اعلان ، ایس آئی آر کی منسوخی اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ
ہرگلی جنترمنترنعرہ، نیہا بورا، ابھجیت دیپکے، پرکاش راج ، پرشانت بھوشن اور انڈیا اتحاد کوشرکت کی دعوت

نئی دہلی ۔ 22 اکٹوبر (ایجنسیز) ’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر‘ نامی اتحاد نے جمعہ 23 اکتوبر کو ملک گیر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس اتحاد نے پارلیمنٹ سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر مواخذہ چلانے، ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کو فوری منسوخ کرنے اور جمہوریت کی بحالی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔یہ اتحاد 14 اکتوبر کو قائم ہوا، جس میں طلبہ، کسان، مزدور، خواتین، دلت، آدیواسی اور اقلیتی تنظیمیں شامل ہیں۔ مارچ میں شرکت کیلئے آئیسا لیڈر نیہا بورا، سی جے پی کے ابھیجیت دیپکے، اداکار پرکاش راج، معروف وکیل پرشانت بھوشن اور ‘انڈیا’ اتحاد کو باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔اتحاد نے اس احتجاج کو ‘جمہوریت کی بحالی کیلئے عوامی مارچ’ کا نام دیا ہے، جس کا نعرہ ‘ہر گلی جنتر منتر، ہر گاؤں جنتر منتر، میرا گھر جنتر منتر’ ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہیکہ وہ قومی پرچم کے ساتھ ضلعی و ریاستی دارالحکومتوں میں پرامن مارچ نکالیں۔منتظمین نے دہلی پولیس سے مارچ کی اجازت طلب نہیں کی اور کہا کہ وہ کہیں بھی اجازت نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہ کرنے کا انتباہ دیا۔ نئی دہلی میں دفعہ 163 نافذ ہے، جبکہ جنتر منتر پر احتجاج پر عائد پابندی کی بھی مخالفت کی گئی۔دہلی میں یہ مارچ کناٹ پلیس کے بنگلہ صاحب گردوارہ سے پٹیل چوک پر واقع الیکشن کمیشن کے دفتر تک جائے گا۔ مظاہرین کو روکے جانے کی صورت میں انہوں نے ‘عوامی پارلیمنٹ’ کے اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں متناسب نمائندگی سمیت جامع انتخابی اصلاحات کے مطالبات رکھے جائیں گے۔ دعوت نامے موصول ہونے کے باوجود نیہا بورا، پرکاش راج اور پرشانت بھوشن کی جانب سے شرکت کی کوئی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ دوسری طرف دہلی پولیس نے بھی اس مجوزہ ملک گیر احتجاجی مارچ کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔