جہدکار لبنیٰ ثروت کی مساعی ، ٹریبونل نے قدیم نقشہ جات طلب کئے
حیدرآباد ۔15۔ اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد کے قدیم ذخائر آب کے تحفظ کے لئے جہدکار ڈاکٹر لبنیٰ ثروت نے نیشنل گرین ٹریبونل چینائی میں درخواست دائر کی اور ٹریبونل نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی کہ دونوں ذخائر آب کا 1950 سے قبل اور موجودہ صورتحال کا نقشہ پیش کرے۔ لبنیٰ ثروت نے دونوں ذخائر آب کے ایف ٹی ایل حدود میں ناجائز قبضوں اور تعمیرات کی شکایت کی۔ ٹریبونل کو بتایا گیا کہ ایف ٹی ایل میں تحریف کی گئی ہے اور ذخیر آب پر غیر مجاز قبضے کئے گئے ہیں۔ درخواست گزار نے ٹریبونل کو بتایا کہ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس بورڈ نے آر ٹی آئی کے تحت عثمان ساگر کا ایف ٹی ایل نقشہ جاری کیا ہے جس کے تحت 6335 ایکر اراضی ایف ٹی ایل کے تحت ہے جبکہ ایچ ایم ڈی اے کی ویب سائیٹ پر 6039 ایکر اراضی دکھائی جارہی ہے۔ حکام سے نمائندگی کے باوجود کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ٹریبونل کو بتایا گیا کہ حکام نے 100 ناجائزہ قبضوں کی نشاندہی کی ہے لیکن آج تک انہیں ہٹایا نہیں گیا۔ درخواست گزار نے بتایا کہ دونوں ذخائر آب حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے تحت ہے ۔ مقدمہ میں حیڈرا کو فریق بنانے کی سرکاری اداروں کی جانب سے درخواست کی گئی۔ لبنیٰ ثروت نے کہا کہ ایچ ایم ڈی اے ، جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد واٹر ورکس اپنی ذمہ داری حیڈرا پر ڈالنا چاہتے ہیں۔1/k/m/b