تل ابیب : اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے عدالتی اصلاحات پر مبنی بعض متنازع فیصلوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بارہ ہفتوں سے جاری ہے۔دارالحکومت تل ابیب سمیت حائفہ ،مغربی القدس،بیروسبی اور نیتیانیہ شہروں میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے۔اسرائیلی حزب اختلاف لیڈر یائر لاپد نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے بیانات کو جھوٹ قرار دے دیا اور نیتن یاہو کی پارٹی کے ارکان سے نیتن یاہو سے علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کردیا۔یاد رہے اس سے قبل نیتن یاھو نے کہا تھا کہ حزب اختلاف مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کر رہی ہے۔ نیتن یاھو نے کہا تھا کہ عدالتی ترامیم تمام جماعتوں کے مطالبہ کے جواب میں کی جارہی ہیں۔نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کی حکومت عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہے اور اپوزیشن کے نمائندوں نے اس مسئلہ پر بات چیت سے انکار کر دیا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا ہم حکام کے درمیان توازن بحال کرنے کے لیے ذمہ داری سے آگے بڑھیں گے اور اس توازن کو درست کریں گے۔ ان اصلاحات کو حاصل کرنے کا بہترین راستہ وسیع اتفاق رائے تک پہنچنا ہے جس سے سڑکوں پر انتشار روکا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں دوسرے فریق کے خدشات کو سن رہا ہوں، ہم ججوں کی کمیٹی کو کنٹرول نہیں کریں گے