سنگھ نے طویل عرصہ تک ترنگے کی بجائے بھگوا پرچم کیوں اختیار کیا تھا ۔ وزیر داخلہ کرناٹک کا سوشیل میڈیا پوسٹ
بنگلورو13 اگسٹ ( ایجنسیز ) کرناٹک کے وزیر داخلہ مسٹر پریانک کھرگے نے ہر گھر ترنگا مہم پر بی جے پی کو ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کو مشورہد یا ہے کہ یہ مہم سب سے پہلے ناگپور میں ار ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر سے شروع کی جانی چاہئے ۔ اپنے ہیڈ کوارٹرس پر ترنگا پرچم لہرانے سے گریز کی آر ایس ایس کی تاریخ کا تذرہ کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ آر ایس ایس نے 2002 سے قومی پرچم لہرانے کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ مسٹر کھرگے نے سوشیل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے پانچ دہوں کے بعد تک بھی آر ایس ایس نے قومی پرچم کو اپنے ناگپور ہیڈ کوارٹرس پر نہیں لہرایا تھا ۔ ترنگا پرچم سنگھ کے دفتر پر پہلے مرتبہ 2002 میں لہرایا گیا تھا ۔ انہوں نے بی جے پی کے حب الوطنی کے پروپگنڈہ پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے نظریاتی ادارہ آر ایس ایس نے کیوں ترنگے پرچم پر بھگوا پرچم کو ترجیح دیت ھی ۔ انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ آر ایس ایس کی جانب سے بھی کیا ترنگا مارچ نکالے جا رہے ہیں اور کیا سنگھ کے کارکن بھی ترنگا پرچم تھامے رہیں گے ؟ ۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ہر ہندوستانی کو حب الوطنی کا درس دینے سے قبل بی جے پی کو شائد پہلے یہ واضح کرنا چاہئے کہ آر ایس ایس نے ترنگے پرچم پر بھگوا پرچم کو کیوں ترجیح دی تھی ۔ اتنے طویل عرصہ تک اپنے ہیڈ کوارٹرس پر ترنگا کیوں نہیں لہرایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیدھا سوال ہے کہ آر ایس ایس کے کتنے روٹ مارچس پر سوئپم سیوکوں نے ترنگا پرچم تھامے مارچ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ایک بھی مثال نہیں ہے اور اب یہی لوگ ملک میں ہر کسی کو دیش بھکتی کا سرٹیفیکٹ دے رہے ہیں۔ واضخ رہے کہ بی جے پی کی جانب سے ہرگھر ترنگا مہم شروع کی گئی ہے اور اس میں سبھی کو شامل ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے خود وزیر اعظم نے بھی ہرگھر ترنگا مہم میں حصہ لینے کی عوام سے اپیل کی تھی اور کہا کہ اس طرح سے مجاہدین آزادی کو خراج پیش کیا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی کئی شہروں میں اس سلسلہ میں ریلیاں منعقد کر رہی ہے ۔