واشنگٹن : 19 مارچ 2003 کو عراق پر امریکی حملے کو دو دہائیاں گزرنے کے بعد بغداد میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور پولش افواج کی مشترکہ فوج کے داخلہ کے ساتھ ہی سفیر پال بریمر کا نام پھر سے سامنے آیا ہے۔بریمر اس وقت امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے احکامات پر عملدرآمد کیلئے عراق آئے تھے۔ان کا کام معیشت کا پہیہ موڑنے اور ملک میں حکمرانی کیلئے ایک نئی راہ کی تشکیل تک محدود تھا لیکن وہ اس سے بھی آگے نکل گئے۔تمام اعلیٰ سطح کے امریکی بیانات کے باوجود جن میں بار بار حملے کی غلطیوں پر زور دیا گیا تھا، بریمر کی اپنی رائے تھی۔ وہ آج بھی جنگ کے فیصلے کی کو درست قرار دے رہے ہیں۔بش کا صدام حسین کا تختہ الٹنے کا اقدام درست تھا۔ انہوں نے کہا ہیکہ عراق آج 20 سال بعد بہتر حالت میں ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ امریکیوں کی طرح عراقیوں کو بھی اس جنگ کی بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ہے تاہم اس جنگ کے فوائد بہت زیادہ تھے۔