سرینگر: جموں وکشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر سریندر کمار چودھری نے عسکری حملوں پر کہاکہ جب سے سرکار بنی تب سے ہی یہ حملے ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ ان حملوں کو کیسے روکنا ہے ، بیانات سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ زمینی سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے صدر ہسپتال سر نگر میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے کیا۔انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کی ہدایت پر صدر ہسپتال سری نگر زخمیوں کیلئے عیادت کیلئے آئے ۔انہوںنے کہاکہ گرینیڈ حملے میں گیارہ افراد زخمی ہوئے جن میں دو کا آپریشن چل رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب سے نیشنل کانفرنس نے حکومت بنائی تب سے حملے ہو رہے ہیں اور یہ بڑا سوال ہے اور زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوگا البتہ عملی اقدامات سے ایسے حملوں کو روکا جاسکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر میں امن و امان کی خواہاں ہے اور پارٹی نے حالات کو معمول پر لانے کی خاطر قربانیاں دی ہیں۔سری نگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں عسکری حملوں میں اضافہ پر سوال کے جواب میں سریندر کمار چودھری نے کہاکہ جب سے سرکار بنی تب سے حملے ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں کو جائزہ لینا پڑے گا کہ ان حملوں کو کیسے روکنا ہے بیانات دینے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے سیکورٹی فورسز آفیسران کی اور اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ خالی تماشہ دیکھنے اور بیانات دینے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ عملی طورپر ان حملوں کو روکنا اب ناگزیر بن گیا ہے ۔