علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کیخلاف غداری کے الزام سے دستبرداری

پاکستان کی تائید میں نعرہ بازی کا کوئی ثبوت نہیں، قانون کو سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرنے بی جے پی پر اکھیلیش کا الزام
علیگڑھ ؍ لکھنؤ ۔ 22 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش پولیس نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے 14 طلباء کے خلاف درج کردہ غداری کے الزامات کو واپس لے لیا۔ اس دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھیلیش یادو نے ریاستی بی جے پی حکومت پر قانونی دفعات کو اپنے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے ضلعی صدر مکیش لودھی نے الزام عائد کیا تھا کہ چند طلبہ نے موافق پاکستان نعرہ بازی کی تھی۔ علیگڑھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اکاش کلھاری نے کہا کہ کوئی ثبوت نہ ملنے کے سبب تین دن بعد ان الزامات سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔ اس نئی پیشرفت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایس پی کے صدر اکھیلیش یادو نے کہا کہ غداری کے الزامات کو بی جے پی حکومت سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے جو دستوری ضابطہ کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ اکھیلیش یادو نے لکھنؤ میں کہا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف عائد کردہ الزامات سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے جس سے واضح ہوگیا ہیکہ بی جے پی خوف و انتشار کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ علیگڑھ کے ایس ایس پی نے کہا کہ ان طلبہ کے خلاف الزامات کا ویڈیو گرافی یا دعویٰ کی تائید پر مبنی کوئی ثبوت نہیں پایا گیا کہ وہ دو گروپوں کے درمیان جھڑپ کے دوران پاکستان کی تائید میں نعرے لگا رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT