عمر قید کی سزا پانے والا شخص دس سال بعد بے قصور ثابت

   

حیدرآباد۔ 14 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک قتل کے معاملہ میں عمر قید کی سزا پانے والے شخص کو 10 سال بعد بے قصور قرار دے کر رہا کردیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 20 فروری 2014 کو عادل آباد ضلع کے کاغذ نگر میں کارتک نامی شخص کا قتل ہوا تھا جس کے الزام میں شمشیر خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ضلع عدالت نے5 جنوری 2018 کو شمشیر خان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ شمشیر خان نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے سریندر نے اس کیس کی سماعت کے بعد نچلی عدالت کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے شمشیرخان کو بے قصور قرار دیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کردہ ثبوت شبہات سے بھرے ہوئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ قتل 20 فروری 2014 کو ہونے کے بعد بھی عدالت کو اس کی اطلاع اگلے دن دی گئی۔ دو گواہوں نے بھی قاتل کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ قتل کے وقت گواہ مقام واردات پر ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے شمشیر خان کو بے قصور قرار دیدیا۔ ش