1.65 کلومیٹر طویل چار لین فلائی اوور کی تعمیر پر 445 کروڑ روپئے کے اخراجات
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : عنبر پیٹ فلائی اوور بہت جلد گاڑیاں چلانے والوں کیلئے دستیاب ہوجائے گا ۔ چار سال قبل اس کے تعمیری کاموں کا آغاز ہوا تھا جو حال ہی میں مکمل ہوئے ہیں ۔ 445 کروڑ روپئے کی لاگت سے گول ناکہ تا چھ نمبر جنکشن سے ہوتے ہوئے مکرم ہوٹل تک 1.625 کلومیٹر طویل چار لین پر مشتمل اس فلائی اوور کی تعمیر کی گئی ۔ مرکزی حکومت کے فنڈس سے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کی جانب سے تعمیر کردہ یہ پہلا فلائی اوور ہے ۔ حصول اراضیات کے لیے درکار 140 کروڑ روپئے ریاستی حکومت نے ادا کئے ہیں ۔ اس فلائی اوور کی تعمیر کے لیے سال 2018 میں سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ سال 2021 میں کاموں کا آغاز ہوا ۔ 2023 کی اواخر تک تعمیری کاموں کو مکمل کرنے کا نشانہ مختص کیا گیا ۔ ابتدائی طور پر اس کی تخمینہ لاگت 216 کروڑ روپئے تھی جس میں 117 کروڑ روپئے اسٹرکچر کی لاگت تھی ۔ جب کہ حصول اراضی کے لیے 99 کروڑ روپئے خرچ ہونے کی توقع تھی ۔ تاہم دونوں طبقات کے مذہبی ڈھانچے ہونے کی وجہ فلائی اوور کی تعمیر کیلئے وہ راضی نہیں ہوئے جس کی وجہ سے کچھ راستوں میں تبدیلی کی گئی اور حصول اراضی زیادہ ہوگئی ۔ تعمیری کاموں میں تاخیر کی وجہ سے تعمیری لاگت بڑھ کر 445 کروڑ روپئے ہوگئی ۔ اسٹرکچر کی تعمیری لاگت 265 کروڑ اور حصول اراضیات پر 180 کروڑ روپئے خرچ ہوگئے جس میں حصول اراضیات کے لیے ریاستی حکومت نے 140 کروڑ روپئے ادا کئے ۔ اس فلائی اوور کے عوام کیلئے دستیاب ہونے پر اُپل سے ایم جی بی ایس جانے والوں کے ساتھ شہر سے ورنگل ہائی وے کی طرف جانے والی گاڑیوں کے سفر کا وقت بھی کم ہونے کا امکان ہے ۔ ٹریفک کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا ۔ پہلے چھ نمبر اور سری رمنا جنکشن پر ٹریفک ٹھپ ہوجاتی تھی ۔ فلائی اوور کے دستیاب ہوجانے کے بعد چادر گھاٹ سے سگنل کے بغیر رامنتا پور ، حبشی گوڑہ اسٹریٹ نمبر 8 تک آسانی سے پہونچ سکتے ہیں ۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس فلائی اوور کا وزیراعظم نریندر مودی یا مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری افتتاح کرسکتے ہیں ۔ اگر وہ دستیاب نہیں ہوئے تو مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اس کا افتتاح کریں گے ۔2