جی ایچ ایم سی اور محکمہ عمارات و شوارع کی مشترکہ کارروائی
حیدرآباد۔/25 ستمبر، ( سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی اور محکمہ عمارات و شوارع کی مشترکہ کارروائی میں عنبرپیٹ میں واقع ایک عاشور خانہ کو 24اور 25 ستمبر کی درمیانی شب رات دیر گئے 3 بجے اچانک منہدم کردیا گیا۔ اس موقع پر پولیس نے سیکوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے تھے اور عاشور خانہ کے اطراف و اکناف علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی تھی۔ سال 2019 میں مسجد ایک خانہ کو شہید کرنے کے بعد عاشور خانہ کو بھی منہدم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن مسجد کے واقعہ کے بعد حالات کشیدہ ہونے پر یہ کارروائی روک دی گئی تھی۔ مسجد ایک خانہ کے روبرو واقع عاشور خانہ کو ذاتی ملکیت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جی ایچ ایم سی حکام نے یہ کارروائی انجام دی۔ 1.6کیلو میٹر طویل عنبرپیٹ فلائی اوور کو بائبل چرچ گول ناکہ سے مکرم ہوٹل عنبرپیٹ تک ایس آر ڈی پی اسکیم کے تحت تعمیر کیا جارہا ہے لیکن مسجد ایک خانہ کا واقعہ اور عاشور خانہ پر تنازعہ کے سبب روڈ کی توسیع کا کام رک گیا تھا اور فلائی اوور کی تعمیر بھی متاثر ہوئی تھی۔ جی ایچ ایم سی حکام نے اچانک انہدامی کارروائی کرتے ہوئے عاشور خانہ کو مکمل طور پر منہدم کردیا اور اندرون چند گھنٹے ملبہ کو بھی صاف کردیا گیا۔ 150 کروڑ کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے عنبرپیٹ فلائی اوور کا سنگ بنیاد مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے رکھا تھا اور اس کی تعمیر کیلئے 281 خانگی جائیدادوں کو حصول اراضی کے تحت حاصل کرلیا گیا تھا۔ب