عوامی مسائل پر 27 تا31 مئی سی پی آئی کا ریاست گیر احتجاجی منصوبہ

   

پٹرولیم اشیاء پر مرکز نے بارہ آنے بڑھا کر چار آنے کم کیا ہے، ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/24مئی، ( سیاست نیوز) سی پی آئی نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کی ریاستی عاملہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی پالیسیوں کے نتیجہ میں کسان اور سماج کے دیگر طبقات متاثر ہورہے ہیں۔ سی پی آئی نے عوامی مسائل پر ریاست گیر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ میں ریلوے کوچ فیکٹری اور اسٹیل پلانٹ کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اسے فراموش کردیا گیا۔ سی پی آئی نے مزدوروں کی تنظیموں کے ساتھ احتجاج منظم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد میں کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی فیکٹری کی نیلامی کے خلاف سی پی آئی احتجاج کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے پانی کے استعمال کے معاملہ میں تلنگانہ حکومت کا موقف غیر واضح ہے۔ ریاستی عاملہ کا اجلاس سابق رکن کونسل ایچ راجی ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پارٹی کے اسسٹنٹ سکریٹری پی وینکٹ ریڈی اور چاڈا وینکٹ ریڈی نے قراردادوں کی تفصیلات جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے مرکز نے ٹیکسوں میں کمی کی ہے لیکن مرکز کا یہ اقدام ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے بارہ آنے اضافہ کرتے ہوئے چار آنے کی کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں پٹرول اور ڈیزل پر جو ٹیکس تھا اسے بحال کرتے ہوئے گزشتہ سات برسوں کے اضافہ سے عوام کو راحت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی نے 27 تا 31 مئی قومی سطح پر احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق تلنگانہ میں بھی احتجاج ہوگا۔ 27 مئی کو منڈلوں، ٹاؤنس جبکہ 30 مئی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرس پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔31 مئی کو حیدرآباد میں ریاست گیر سطح پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اور سیکولر طاقتوں کو متحد کرتے ہوئے عوامی مسائل اور خاص طور پر ملک کو فرقہ پرستی کی لعنت سے نجات دلانے کی کوشش کی جائے گی۔ ر