غیر قانونی شہریوں کی منتقلی میں ہندوستان کے عدم تعاون کی شکایت

   

امریکی حکام نے ممالک کی فہرست تیار کی، ہندوستان ، پاکستان ، ا یران اور روس شامل
حیدرآباد ۔7۔فروری (سیاست نیوز) امریکہ میں ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف بڑے پیمانہ پر مہم کا آغاز ہوچکا ہے تاکہ امریکہ کو غیر قانونی افراد سے نجات دلائی جائے۔ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمس انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ان ممالک کی نشاندہی کی ہے جن سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ امریکی حکام نے ایسے ممالک کی فہرست تیار کی ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے سلسلہ میں تعاون سے گریز کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں ہندوستان کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے 200 سے زائد غیر قانونی افراد کو گزشتہ دنوں خصوصی طیارہ سے وطن واپس بھیج دیا گیا۔ امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی نے عدم تعاون کرنے والے ممالک کی جو فہرست تیار کی ہے ، ان میں کیوبا ، ایران ، پاکستان ، روس اور وینزولا شامل ہیں۔ امیگریشن اینڈ کسٹمس انفورسمنٹ حکام نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی کا عمل تیز کردیا ہے۔ امریکی حکومت نے تمام ممالک سے درخواست کی ہے کہ امریکہ میں غیر مقیم افراد کی نشاندہی میں تعاون کریں۔ جو لوگ بھی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ، انہیں اپنے شہری کے طور پر قبول کیا جائے۔ امریکی حکام نے مختلف ممالک سے خواہش کی ہے کہ وہ انٹرویوز ، سفری دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے شہریوں کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں شیڈول کمرشیل فلائٹس یا چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعہ وطن واپس کیا جاسکے۔ ممالک کے عدم تعاون کے نتیجہ میں غیر قانونی افراد کی منتقلی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ امیگریشن اینڈ کسٹمس انفورسمنٹ کے شرائط کی تکمیل نہ کرنے والے ممالک کو عدم تعاون کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ امریکی حکام چاہتے ہیں کہ غیر قانونی افراد کو سفری دستاویزات جاری کرتے ہوئے ان کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے تمام باشندوں کی واپسی کو قبول کرے گا جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ ان کی شہریت کے تعین کے بعد واپسی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی دوران وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ہی غیر قانونی منتقلی کے خلاف رہا ہے۔ خاص طور پر غیر قانونی افراد کے منظم جرائم کے ملوث ہونے قبول نہیں کیا جائے گ