خود چیف الکٹورل آفیسر کو بھی آئے گی ایس آئی آر کی نوٹس !
حیدرآباد۔13جولائی(سیاست نیوز) فہرست رائے دہندگان میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے ریاستی سطح کے مجاز عہدیدار چیف الکٹورل آفیسر کا نام ہی ’بے ضابطگی کا شکار‘ ہو تو ریاست کے رائے دہندوں کی صورتحال کیا ہوگی! چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ سی سدرشن ریڈی نے ایک انٹرویو میںکہا کہ ان کا نام خود ’انامولی‘ میں ہے اور انہیں خود دستاویزات جمع کروانے ہوں گے۔ فہرست رائے دہندگان میں خامیوں کو دور کرنے جاری مہم کے دوران سی ای او تلنگانہ نے اعتراف کیا کہ ان کا نام موجودہ فہرست رائے دہندگان میں 2002 کی فہرست سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 2002 کی ووٹر لسٹ میں موجود انہیں اپنے ہی نام کے ساتھ میاپنگ کرنی ہے لیکن 2002 اور 2025 کی فہرست میں تفریق بے ضابطگی کا شکار ناموں کی فہرست میں شامل کررہا ہے۔ مسٹر سدرشن ریڈی نے بتایا کہ 2002کی فہرست رائے دہندگان میں ان کا نام ’سی سدرشن ریڈی ‘ تھا اور انہوں نے اس کے بعد اپنے ووٹر شناختی کارڈ میںمحض ’سی ‘ کے بجائے مکمل نام درج کروایا ہے اور اس کیلئے انہیں نوٹس لازمی وصول ہوگی اور انہیں دستاویزات کے ساتھ نوٹس کا جواب دینا ہے ۔ سدرشن ریڈی نے کہا تلنگانہ میں جو ’بے ضابطگیاں ‘ پائی جار ہی ہیں ان میں سب سے زیادہ ماں باپ سے بچوں کی عمر میں 15 سال سے کم کا فرق‘ ایک اولاد سے دوسری اولاد کے درمیان 9 ماہ سے کم کا فرق‘ 40 سال سے زائد کا فرق دادا ‘ دادی اور پوتے کے درمیان‘ بعض ووٹرس کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں جبکہ بعض ووٹر محض ’آدھار کارڈ‘ پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔2002 کے SIR اور موجودہ فہرست میں تضاد کے علاوہ کئی اور تضادات ہیں جن میں ناموں میں موجود فرق یا پچھلے SIR کے دوران والدہ کے ساتھ میاپنگ اور اب والد کے ساتھ میاپنگ جیسے مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے ووٹرس بالخصوص ان رائے دہندوں کو جن کے پتہ تبدیل ہوچکے ہیں تشویش کا شکار ہونے کے بجائے اپنے سابقہ پتہ پر پہنچ کر BLO سے فارم حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ فارم SIR میاپنگ کرتے ہوئے جمع کرواسکتے ہیں اور اس کے ساتھ پتہ یا حلقہ انتخاب کی تبدیلی کیلئے فارم 8 جمع کرواسکتے ہیں۔ سدرشن ریڈی نے کہا کہ ریاست میں 1 کروڑ سے ووٹرس کو بے قاعدگی و بے ضابطگی کا شکار ووٹرس کی فہرست میں شامل کئے جانے کا خدشہ ہے اور انہیں نوٹس ملنے پر اپنے دستاویزات کے ساتھ رجوع ہوتے ہوئے مسئلہ کو حل کروانا ہوگا۔3