غیر مسلم سماج کے بچوں کی شادیوں میں عجلت

   

شادی خانے مصروف ، کرایہ میں اضافہ ، مہورت کے نام پر شادیاں
حیدرآباد۔18۔مئی (سیاست نیوز) والدین اپنے بچوں کی شادی میں عجلت کر رہے ہیں اور شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر اضلاع میں موجود شادی خانو ںمیں دن کی دو شادیاں ہورہی ہیں اور کئی میدانوں اور اسکولوں میں بھی شادیاں انجام پانے لگی ہیںکیونکہ ہندو رسم و رواج کے مطابق مہورت کے مطابق ہی شادیاں کی جاسکتی ہیں اور مہورت نہ ہونے پر شادیوں سے پرہیزکیا جاتا ہے ۔جون کے بعد شادیو ںکے لئے طویل عرصہ تک کوئی اچھا مہورت نہ ہونے کے سبب والدین اور سرپرستوں کی جانب سے شادیوں میں عجلت کی جانے لگی ہے ۔گذشتہ دو برسوں کے دوران کورونا وائرس اور حکومت کی جانب سے اجتماعات پر عائد کردہ پابندیوں کے سبب کئی شادیاں ملتوی رکھی گئی تھیں لیکن اب جبکہ کوئی تحدیدات نہیں ہے تو ایسی صورت میں جون کے اواخر تک ہی اچھے مہورت باقی ہیں اور اس کے بعد طویل مدت تک کوئی بہتر مہورت نہیں ہونے کے سبب پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ماہرین کے مطابق ہندوسماج میں جون کے بعد ماہ ڈسمبر تک کوئی مہورت نہیں ہونے کی وجہ سے جون سے قبل اور جون کے اواخر تک مسلسل شادیوں کا سلسلہ جاری ہے۔بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ 5ماہ سے شادیوں کا موسم جاری ہے اور غیر مسلم شادیوں کا سلسلہ جاری رہنے کے سبب شادی خانوں کی جانب سے کرایوں میں کافی اضافہ کیاگیا ہے علاوہ ازیں سجاوٹ اور دیگر امور کی قیمتوں میںبھی کافی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے۔شادیوں کے امورانجام دینے والی کمپنیوں کا کہناہے کہ جون کے بعد ڈسمبر تک مہورت نہ ہونے کے سبب شادیوں کے کام نہیں ہوں گے لیکن اب جبکہ شادیوں کا سلسلہ جاری ہے توایسی صورت میں ایک دن میں کئی شادیاں ہورہی ہیں اور شادیو ںمیں خدمات انجام دینے والے عملہ کی قلت کے سبب اضافی خرچ آرہا ہے لیکن ان اخراجات میں جون کے بعد کمی واقع ہوسکتی ہے۔م