فائرنگ واقعہ کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں:ٹرمپ

   

واشنگٹن:26 اپریل ( یو این آئی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئیکہا ہے کہ مشتبہ شخص نے15 گز دور سے حملے کی کوشش کی، خیال ہے ہدف میں ہی تھا،میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔ہفتہ کی رات کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں پریس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، امریکی صدر اور دیگر محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا۔واقعہ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص کے پاس بہت سے ہتھیار تھے، سیکریٹ سروس نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی، مشتبہ شخص نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا، ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کررہاتھا کہ کیا ہوا، میلانیا نیفورا کہا بری آوازہے۔امریکی صدر نے کہا کہ اس شخص نے 15 گز دور سے حملے کی کوشش کی، ایک اہلکار کوگولی لگی مگربْلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سیمحفوظ رہا،میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ جس اہلکارکو گولی لگی، میں نیاس سے بات کی ہے،کئی سال میں یہ پہلا موقع نہیں کہ ری پبلکنز پرحملہ ہوا۔ٹرمپ نے کہا کہ گرفتار مشتبہ حملہ آورکا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، اہلکاروں نے بروقت اقدام کرکیہزاروں افراد کی جانیں بچائیں، جلد معلوم کرلیں گے کہ آیا یہ واحد شوٹرتھا۔صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنا ہوں گے، ہم 30 دن میں اس سے بڑی تقریب منعقد کریں گے، ہم اپنی تقاریب منسوخ نہیں کریں گے۔(S/W)

میرا اصل نشانہ ٹرمپ تھے، حملہ آور کا اعتراف

واشنگٹن : 26 اپریل ( یو این آئی ) وائٹ ہاؤس میں پیش آئے فائرنگ کے ایک واقعہ نے سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جہاں حملہ آور نے فائرنگ کے دوران تقریباً 8 گولیاں چلائیں۔امریکی میڈیا کے مطابق اس واقعہ میں زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، جس نے سیکیورٹی اداروں کے لیے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایف بی آئی کی ٹیم نے مشتبہ شخص کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تلاشی کے لیے وارنٹ حاصل کرنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق حملہ آور کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا کہ اس کا اصل ہدف ڈونلڈ ٹرمپ تھے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا ایک انفرادی اقدام ہے۔(S/W)