پٹنہ : مرکزی وزیر گری راج سنگھ جمعہ کو بہار کے بھاگلپور سے اپنی ہندو سوابھیمان یاترا شروع کر رہے ہیں۔ یاترا کے پہلے مرحلے میں وہ مسلم اکثریتی علاقے سیمانچل کے کٹیہار، ارریہ، پورنیہ اور کشن گنج اضلاع کا دورہ کریں گے۔ وہ جمعرات کی شام ہی بھاگلپور پہنچ گئے۔ انہوں نے نہ صرف بی جے پی بلکہ جے ڈی یو، آر جے ڈی سمیت ہر پارٹی اور تنظیم سے وابستہ ہندوؤں سے بھی ان کی یاترا یں شامل ہونے کی اپیل کی۔ گری راج کے اس دورے نے سیمانچل میں سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو نے اس دورے پر اعتراض کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے گری راج سنگھ کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوسی اور سیمانچل کے امن اور ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی تو گری راج کو ان کی لاش سے گزرنا پڑے گا۔یہاں تک کہ ان کی پارٹی بی جے پی نے گری راج سنگھ کے اس دورے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ جیسوال نے جمعرات کو واضح کیا کہ یہ ان کا ذاتی دورہ ہے۔
پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اگر کوئی پارٹی لیڈر یا کارکن یاترا میں شریک ہوتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں ہے