فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اوقافی جائیدادوں کا تحفظ تلگودیشم کی اوّلین ترجیح

   

دعوت افطار سے چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کا خطاب، وقف ترمیمی بل میں عجلت نہ کرنے مرکزی حکومت کو مشورہ
حیدرآباد 28 مارچ (سیاست نیوز) پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل 2024 کی پیشکشی کے خلاف ملک بھر میں مسلمانوں کے احتجاج کے دوران چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے ہرممکن اقدامات کا یقین دلایا۔ امراوتی میں مسلمانوں کے لئے چیف منسٹر کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ آندھراپردیش کی سرکردہ مسلم مذہبی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ دار دعوت افطار سے دور رہے اور اُنھوں نے وقف ترمیمی بل کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بی جے پی کی حلیف پارٹیوں کی افطار دعوتوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے دعوت افطار میں خطاب کرتے ہوئے راست طور پر وقف ترمیمی بل کا حوالہ نہیں دیا لیکن اِس بات کا اشارہ دیا کہ اوقافی جائیدادوں کا بہرصورت تحفظ کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ اقلیتوں کی بھلائی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آندھراپردیش میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور سماج کو توڑنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ چندرابابو نائیڈو نے متحدہ آندھراپردیش میں تلگودیشم حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی بھلائی کے اقدامات کا حوالہ دیا اور کہاکہ حیدرآباد میں حج ہاؤز کی تعمیر اور اُردو یونیورسٹی کا قیام تلگودیشم حکومت کا کارنامہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سابق وائی ایس آر کانگریس حکومت نے اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی راہ ہموار کی۔ تلگودیشم برسر اقتدار آتے ہی سابق حکومت کے احکامات کو منسوخ کردیا گیا اور وقف بورڈ کی تشکیل کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کی حکومت اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی ترقی کے لئے ہرممکن قدم اُٹھائے گی۔ چندرابابو نائیڈو نے افطار کے بعد باجماعت نماز میں شرکت کی اور روزہ داروں سے انفرادی ملاقات کی۔ اِس موقع پر وزیر اقلیتی بہبود این محمد فاروق، مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین اور تلگودیشم کے اقلیتی قائدین موجود تھے۔ اِسی دوران چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کے قریبی ذرائع کے مطابق نریندر مودی حکومت کو وقف ترمیمی بل 2024 کے بارے میں چندرابابو نائیڈو نے تجاویز پیش کی ہیں۔ اُنھوں نے موجودہ بل کے مسودہ میں ضروری ترمیمات کی بھی سفارش کی تاکہ مسلمانوں میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرابابو نائیڈو کے دباؤ کے تحت نریندر مودی حکومت نے بل کی پیشکشی کو مؤخر کردیا ہے تاکہ اِس میں ضروری ترمیمات کی جاسکیں۔1