بی جے پی صدر بنڈی سنجے کا الزام، مجالس مقامی کے خلاف کے سی آر کے بیان کی مذمت
حیدرآباد۔19۔ مئی (سیاست نیوز) بی جے پی ریاستی صدر بنڈی سنجے نے الزام عائد کیا کہ مجالس مقامی اور پنچایتوں کو مرکز کی جانب سے راست فنڈس کی اجرائی کی مخالفت کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر دیہی علاقوں کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ سرپنچوں کو ترقیاتی فنڈس کی اجرائی میں تاخیر کے سبب کئی سرپنچوں نے خودکشی جیسا انتہائی اقدام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلز کی اجرائی میں تاخیر کے سبب سرپنچوں پر کنٹراکٹرس کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی 73 ترمیم کے تحت پنچایتوں کو مرکز کی جانب سے ترقیاتی فنڈس جاری کئے جاتے ہیں۔ تعلیم ، صحت کے علاوہ 29 دیگر امور کیلئے دستور کے مطابق فنڈس کی اجرائی سے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ بنڈی سنجے نے کہا کہ راشن کارڈس کی اجرائی ، پنشن ، ڈبل بیڈروم مکانات اور دیگر اسکیمات کے استفادہ کنندگان کے انتخاب کا عمل غیر سیاسی طور پر ہونا چاہئے ۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس کے عوامی نمائندے صرف اپنے حامیوں اور پارٹی کارکنوں کے نام اسکیمات کیلئے شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کی شکست یقینی ہے۔ اسی دوران بی جے پی کے رکن اسمبلی رگھونندن راؤ نے چیف منسٹر کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ غیر دستوری بیانات کی اجرائی سے گریز کریں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود کے سی آر دستور کی 73 ترمیم سے واقف نہیں ہے۔ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور سے مرکز راست فنڈس جاری کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیمات اور خاص طور پر دیہی ضمانت روزگار اسکیم پر بدعنوانیوں کے بغیر عمل آوری کیلئے مرکز راست فنڈس جاری کرتا ہے۔ر