فون ٹیاپنگ کیس کے دو اہم ملزمین کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس کی اجرائی

   

پربھاکر راؤ اور شراون راؤ کے امریکہ چھوڑدینے کی اطلاع، پولیس کو اہم کامیابی کی امید
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ اسکام کے دو اہم ملزمین کو امریکہ سے ہندوستان واپس لانے کی کوششوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ بی آر ایس دور حکومت میں اپوزیشن قائدین کے کئی فون ٹیاپنگ کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس مقدمہ میں اسپیشل انٹلیجنس برانچ کے سابق سربراہ پربھاکر راؤ اور ایک نیوز چینل کے منیجنگ ڈائرکٹر شراون راؤ اہم ملزم ہیں اور دونوں امریکہ میں مقیم ہیں۔ پولیس کی جانب سے بارہا نوٹس کی اجرائی کے باوجود مختلف بہانے بناکر دونوں ملزمین وطن واپسی سے گریز کررہے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے امریکہ سے ہندوستان واپس لانے کیلئے ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور نوٹس کی رسائی کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی بی آئی کے ذریعہ انٹرپول کو ریڈ کارنر نوٹس روانہ کردی گئی ہے جو دونوں اہم ملزمین سے متعلق ہے۔ ریڈ کارنر نوٹس کے بعد انٹرپول کی جانب سے 196 ممالک کو دونوں ملزمین کے تعلق سے چوکس کردیا جاتا ہے اور ملزمین ان ممالک میں کھلے عام سفر نہیں کرسکتے۔ 1

بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری سے بچنے کیلئے پربھاکر راؤ اور شراون راؤ امریکہ سے کسی نامعلوم مقام منتقل ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شراون راؤ بلجیم اور پربھاکر راؤ کنیڈا میں مقیم ہیں لیکن ان کی موجودگی کے بارے میں قریبی افراد کو بھی واقف نہیں کرایا گیا ہے۔ انٹرپول سے ریڈ کارنر نوٹس کی اجرائی کے بعد تلنگانہ پولیس کو دونوں ملزمین کو منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس دونوں ملزمین کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے حقیقی مقامات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ قانونی طور پر واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔1