فیس باز ادائیگی کے رہنمایانہ خطوط میں تبدیلی پر غور

   

استفادہ کنندگان کی تعداد کمی کرنے حکومت کے اقدامات

حیدرآباد۔21۔اگسٹ(سیاست نیوز) ریاستی حکومت فیس باز ادائیگی اسکیم کے قد و خال میں تبدیلی اور نئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے ذریعہ استفادہ کنندگان کی تعداد میں کمی کرنے کا جائزہ لے رہی ہے!حکومت تلنگانہ کو فیس بازادائیگی اسکیم کے سلسلہ میں طلبہ کے احتجاج اور ناراضگی کا سامنا ہے ۔ حکومت نے آئندہ تعلیمی سال سے استفادہ کنندگان کی تعداد کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کا آغاز کردیاہے۔ مختلف طبقات کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں محکمہ جات سے حکومت نے جو رپورٹ طلب کی ہے اس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ جاریہ تعلیمی سال کے دوران فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کے لئے نئے قد و خال تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور جاریہ تعلیمی سال کے دوران وصول کی جانے والی درخواستوں کیلئے نئے رہنمایانہ خطوط کو منظوری دیتے ہوئے انہیں جاری کردیا جائے تاکہ ان کے مطابق اہل طلبہ کو ہی فیس باز ادائیگی اور اسکالر شپس کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس پر عمل آوری کی صورت میں فیس بازادائیگی اسکیم اور اسکالرشپس اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں 50فیصد تک کمی کی جائے گی کیونکہ حکومت نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے تحت اب اسکالر شپس کے حصول کیلئے طلبہ کا مستحق ہونا یا ان کے صداقتنامہ آمدنی پر انحصار نہیں ہوگا بلکہ بہترین تعلیمی مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو ہی فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت رقومات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔نئے رہنمایانہ خطوط میں فیس بازادائیگی کیلئے داخل کی جانے والی درخواستوں کے ساتھ درخواست گذار کیلئے لازمی ہوگا کہ وہ 75 فیصد حاضری کا سرٹیفیکٹ بھی منسلک کرے کیونکہ جن طلبہ کی 75 فیصد حاضری نہیں ہوگی ان طلبہ کو فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے اہل نہیں قرار دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں طلبہ کو اس اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے اپنے اہم مضامین میں زائد از 50 فیصد نشانات حاصل کرنا لازمی ہوگا اور جو طلبہ ناکام ہوتے ہیں انہیں فیس باز ادائیگی اسکیم سے کیلئے نااہل قرار دیا جائے گا۔ حکومت نے اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد طلبہ کی تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے اور اسکیم کے استفادہ کنندگان کی تعداد کو کم کرنے کیلئے جو منصوبہ تیار کیاہے اس سلسلہ میں مختلف کورسس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے سال اول کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے یہ رہنمایانہ خطوط تیار کئے گئے ہیں جو کہ طلبہ کے مفاد میں نہیں ہیں۔ تلنگانہ میں فی الحال حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی فیس بازادئیگی اسکیم سے استفادہ حاصل کرنے والے طلبہ کی مجموعی تعداد جن میں ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی طلبہ شامل ہیں وہ 12لاکھ 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور سالانہ ان طلبہ کیلئے مجموعی طور پر حکومت کو 2350 کروڑ کی تخصیص کرنی پڑرہی ہے ۔3