قبائیلی لیڈر کمرم بھیم کی زندگی پر فلم میںمسلم کردار پر بی جے پی کا ہنگامہ

   

lجونیر این ٹی آر اہم رول میں، فلم کی نمائش پر تھیٹرس کو آگ لگادینے بی جے پی صدر بی سنجے کی دھمکی
lسوشیل میڈیا میں ملا جلا ردعمل، فلم ’ باہوبلی‘ کی کامیابی کے بعد فلم ساز راج مولی کی نئی پیشکش
حیدرآباد۔ حالیہ عرصہ میں فلمی دنیا میں فلم ’ باہو بلی ‘ کے ذریعہ اپنی شناخت بنانے والے ڈائرکٹر ایس ایس راج مولی کو بی جے پی نے ایک نئے تنازعہ میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔ ’باہوبلی‘ کی شاندار کامیابی اور مختلف زبانوں میں فلم کی ڈبنگ سے راج مولی کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور ’باہوبلی‘ کے تمام اہم کردار فلم بینوں میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ راج مولی نے تلنگانہ کے مقبول قبائیلی رہنما کمرم بھیم پر فلم تیار کی ہے جس میں جونیر این ٹی آر نے انقلابی قبائیلی لیڈر کا رول ادا کیا۔ کمرم بھیم نے نظام کے خلاف نہ صرف بغاوت کا اعلان کیا تھا بلکہ نظام کی فوج سے گوریلا لڑائی کی تھی۔ وہ قبائیلیوں کو اراضی پر حقوق دلانا چاہتے تھے۔ فلم ساز راج مولی نے کمرم بھیم کی زندگی پر تیار کردہ فلم کا نام ’’ردرام رانم رودھی رام ‘‘ (RRR) رکھا ہے۔ فلم کے ٹرائیلر کے منظر عام پر آتے ہی ایک طرف سماج کے مختلف گوشوں خاص طور پر قبائیلی طبقہ کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا لیکن راج مولی کو غیر متوقع طور پر بی جے پی سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ تلنگانہ بی جے پی کے ریاستی صدر بی سنجے کمار نے فلم کی ریلیز کے خلاف انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی فلم کی ریلیز میں رکاوٹ پیدا کرے گی اور ضرورت پڑنے پر تشدد سے کام لیا جائے گا۔ بی جے پی کو آخر کس بات پر اعتراض ہے ؟ فلم کے مین کردار جونیر این ٹی آر کو ایک مسلم نوجوان کے لباس میں پیش کیا گیا جس کے سر پر گول ٹوپی اور آنکھوں میں سرمہ ہے۔ بی جے پی کو اس بات پر اعتراض ہے کہ کمرم بھیم کو ایک مسلم نوجوان کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے جبکہ فلم ساز کا یہ استدلال ہے کہ نظام کے خلاف لڑائی میں بھیس تبدیل کرتے ہوئے کمرم بھیم نے حصہ لیا تھا جس کو پیش کرنے کیلئے ایسا لباس دیا گیا ہے۔ بی جے پی اس استدلال پر مطمئن نہیں ہے اور اُس نے فلم کی مخالفت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنجے کمار کا کہنا ہے کہ کمرم بھیم کو مسلم نوجوان کے طور پر پیش کرتے ہوئے قبائیلی عوام کے جذبات کو مجروح کیا گیا۔ 22 اکٹوبر کو کمرم بھیم کی یوم پیدائش کے موقع پر فلم کا ٹرائیلر ریلیز کیا گیا تھا۔ کمرم بھیم نے آصف جاہی مملکت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ بی جے پی صدر نے کمرم بھیم کو مسلم لباس میں پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے سوال کیا کہ راج مولی کیا کسی مسلمان لیڈر کو جس کا تعلق پرانے شہر سے ہو یا پھر نظام دور کے کسی نواب کے سر پر تلک اور زعفرانی لباس پناکر فلم تیار کرسکتے ہیں؟ ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر متنازعہ سین کے ساتھ فلم کی نمائش کی جاتی ہے تو بی جے پی کارکن نہ صرف رکاوٹ پیدا کریں گے بلکہ تھیٹرس کو آگ لگادیں گے۔ بی جے پی کی اس دھمکی پر سوشیل میڈیا میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کمرم بھیم 1901 میں پیدا ہوئے اور 1940 میں ان کا دیہانت ہوا۔ اس مختصر عرصہ میں انہوں نے قبائیلیوں کے حقوق کیلئے غیر معمولی جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے جل، جنگل اور زمین کا نعرہ دیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ قبائیلی عوام کا پانی، جنگل اور زمین پر حق ہونا چاہیئے۔ نظام کی فوج کے خلاف گوریلا جنگ سے کمرم بھیم کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔انہوں نے کیرا میری منڈل میں جوڈے گھاٹ قائم کیا تھا۔ یہ علاقہ فی الوقت موجودہ کمرم بھیم آصف آباد ضلع کا حصہ ہے۔ 1928 سے 1940 میں دیہانت تک کمرم بھیم کی سرگرمیاں اسی مرکز سے جاری رہیں۔ ہر سال 31 اکٹوبر کو کمرم بھیم کی برسی کے موقع پر قبائیلی بڑے پیمانے پر جوڈے گھاٹ پر جمع ہوکر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کی اس دھمکی کا فلم کی ریلیز پر کیا اثر پڑے گا۔