قبول اسلام کے سرٹیفکٹس کی اجرائی بند

   

دیگر ریاستوں کے حالات کا اثر ۔ تلنگانہ میں تبدیلی مذہب پر امتناع نہیں
حیدرآباد۔5۔جون۔(سیاست نیوز) مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم نوجوانوں سے شادی کیلئے کیا صرف لڑکیاں ذمہ دار ہیں! ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ان حالات کیلئے مختلف ریاستوں میں جہاں تبدیلیٔ مذہب پر پابندی ہے اس سے پیدا ہونے والے حالات کا اثرحیدرآباد اور تلنگانہ پر بھی ہورہا ہے۔ تلنگانہ میں تبدیلی مذہب پر کوئی پابندی عائد نہیں ۔ دیگر ریاستوں میں عائد پابندی کے سبب تلنگانہ کے جن اداروں سے تبدیلی مذہب یا قبولیت اسلام کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا تھا اس کی اجرائی بند کردی گئی جو کہ تشویش کا باعث ہے۔ شہر میں وکلاء برادری ‘ علماء اکرام ‘ منتخبہ عوامی نمائندوںاور ذمہ داران ملت اسلامیہ کو اس پر سنجیدگی سے غور کرکے فوری اقدامات پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ اگر قبولیت اسلام سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ادارو ںکے ذمہ داروں کا کہناہے کہ موجودہ حالات میں سرٹیفیکیٹ کی اجرائی ان کیلئے دردسر ہے کیونکہ سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کے بعد جو حالات پیدا ہورہے ہیں اور جس طرح سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہ ان کے لئے تکلیف دہ ہیں۔ تلنگانہ میں تبدیلی مذہب پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے اسی لئے ریاستی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکے علاوہ مسلم ذمہ داروں کو اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے واضح احکامات کی اجرائی کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کو سرٹیفیکیٹ کی اجرائی میں ہونے والی دشورایوں کو دور کیا جاسکے ۔