پرہجوم مقامات کو کیمروں کی تنصیب میں ترجیح دینے کے ٹی آر کی ہدایت ۔ اعلی حکام کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے حیدرآباد کو مزید محفوظ شاہر میں تبدیل کرنے 10 لاکھ سی سی کیمرے لگانے کی پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ لا اینڈ آڈر کی برقراری میں سی سی کیمرے اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ شہر کے اطراف واکناف سی سی کیمروں کا جال پھیلانے سے سائبر کرائم اور جرائم پر خصوصی توجہ دینے کا پولیس کو مشورہ دیا ۔ وزیر نے حیدرآباد کو محفوظ شہر میں تبدیل کرنے پولیس عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا ۔ اجلاس میں وزیر داخلہ محمد محمود علی ، ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی حیدرآباد ، سائبر آباد اور رچہ کنڈہ کے پولیس کمشنرس کے علاوہ مئیر حیدرآباد بی رام موہن نے شرکت کی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں فی الحال 5 لاکھ 80 ہزار سی سی کیمرے ہیں ۔ مزید سی سی کیمرے نصب کرتے ہوئے اس کی تعداد 10 لاکھ تک پہونچانے کی پولیس کو ہدایت دی ۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ سی سی کیمرے کی فہرست میں حیدرآباد کو سارے ملک میں سرفہرست مقام حاصل ہے ۔ جب کہ عالمی سطح پر حیدرآباد 16 ویں مقام پر ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر لا اینڈ آرڈر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ جس کی وجہ سے گذشتہ 6 سال سے شہر حیدرآباد میں امن و امان برقرار ہے اور لا اینڈ آرڈر پوری طرح کنٹرول میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کو مستحکم بنانے کی وجہ سے شہر میں مکمل امن و امان برقرار ہے ۔ جس کے سبب حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہورہی ہے اور بڑی تیزی سے شہر کی توسیع ہورہی ہے جس کی وجہ سے شہر پر مزید نگاہ بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ کے ٹی آر نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ عوام کی زیادہ پرہجوم علاقوں میں سی سی کیمرے لگانے پر زیادہ توجہ دیں ۔ ساتھ ہی نئے فلائی اوورس ، سڑکیں ، پارکس ، بستی دواخانوں کے پاس سی سی کیمرے لگانے کی ہدایت دی ۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ حکومت کے باوقار کمانڈ کنٹرول سنٹر دستیاب ہوجانے کے بعد شہر حیدرآباد مزید محفوظ ہوجائے گا ۔ کے ٹی آر نے پولیس عہدیداروں سے استفسار کیا کہ نئے جی ایچ ایم سی اور ایچ ایم ڈی اے کے قانون میں سی سی کیمروں کی تنصیب کے تعلق سے کوئی نئی تجاویز شامل کرنا ہے تو اس کی وضاحت کریں ۔ حیدرآباد ٹریفک مسائل کی یکسوئی اور مستقبل کے اقدامات پر بھی تجاویز طلب کی ۔ لاک ڈاؤن کے دوران بڑے پیمانے پر درج ہونے والے سائبر کرائم کے تعلق سے بھی پولیس سے تفصیلات حاصل کی اور اس کی روک تھام کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرنے کا پولیس کو مشورہ دیا ۔۔