لوک سبھا انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں 66فیصد پولنگ

راہول گاندھی ،امیت شاہ اور کئی مرکزی وزراء کی انتخابی قسمت مہربند، ای وی ایم کی ناقص کارکردگی کی عام شکایت

116 لوک سبھا حلقوں کا احاطہ
گجرات ، کیرلا ، مہاراشٹرا ، کرناٹک ،یوپی،
بہار ، بنگال و دیگر ریاستوں میں رائے دہی

نئی دہلی 23 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات کے تیسرے اور بڑے مرحلے میں منگل کو 116 حلقوں کا احاطہ کیا گیاجہاں مجموعی طور پر 66 فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی لیکن کئی ریاستوں میں ای وی ایم کی ناقص کارکردگی کی شکایات سامنے آئی اور مغربی بنگال میں ایک بوتھ کے باہر ایک شخص کا قتل ہوگیا۔ تشدد کے یکا دکا واقعات کے ماسواء آج کی رائے دہی مجموعی طور پر پرامن رہی ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بتایا گیا کہ تیسرے مرحلے میں رات 8 بجے تک 65.61 فیصد پولنگ درج کی گئی تھی جس پر متعاقب وصول ہونے والی پولنگ کی رپورٹس نظرثانی ہوئی اور تقریباً 66 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ ای وی ایم مشینوں کی ناقص کارکردگی کی شکایات کئی مراکز رائے دہی سے موصول ہوئی جہاں رائے دہندوں کی طویل قطاریں دوپہر تک اپنا حق رائے دہی 116 نشستوں کے لئے استعمال کرنے کے مقصد سے دیکھی گئیں۔ موجودہ مرحلہ میں صدر کانگریس راہول گاندھی، قومی صدر بی جے پی امیت شاہ اور کئی مرکزی وزراء کی انتخابی قسمت کا فیصلہ آج ای وی ایمس میں مہربند ہوگیا ۔ رائے دہی کے آغاز کے ساتھ ہی وزیراعظم نریندر مودی نے احمدآباد کے ایک مرکز پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ امیت شاہ لوک سبھا انتخابات میں گجرات کے حلقہ گاندھی نگر سے مقابلہ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے بھی احمدآباد کے مرکز رائے دہی سے ووٹ ڈالا۔ آج گجرات کی تمام 26 اور کیرلا کی 20 نشستوں کے علاوہ آسام کی 4 ، بہار کی 5 ، چھتیس گڑھ کی 7 ، کرناٹک اور مہاراشٹرا میں 14 فی ریاست اڈیشہ میں 6 ، یو پی میں 10 ، مغربی بنگال میں 5 ، گوا میں 2 ، دادرا و نگر حویلی ، دمن و دیو اور تریپورہ میں فی علاقہ ایک نشست کیلئے رائے دہی ہوئی ۔ تریپورہ مشرقی انتخابی حلقہ میں پولنگ جو قبل ازیں /18 اپریل کو مقرر تھیں ،آج رائے دہی ہوئی ۔ جموں و کشمیر کے حلقہ اننت ناگ میں بھی رائے دہی ہوئی ۔ اس سرحدی ریاست میں 3 مرحلوں پر مشتمل رائے دہی ہورہی ہے ۔ اس کے علاوہ گجرات اور گوا میں اسمبلی کیلئے ضمنی رائے دہی بھی ہوئی حالانکہ کئی مراکز رائے دہی پر پورے ملک میں طویل قطاریں دیکھی گئیں لیکن جموں و کشمیر میں رائے دہندوں کی تعداد بہت کم تھی ۔ ضلع اننت ناگ میں 10 لاکھ رائے دہندے ہیں ۔ رائے دہی بحیثیت مجموعی پرامن رہی اور عسکریت پسندی سے متاثر اضلاع میں رائے دہی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ کیرالا میں طویل قطاریں مراکز رائے دہی کے روبرو دیکھی گئیں جن میں خواتین ، سینئر سٹیزن اور پہلی بار ووٹ دینے والوں کی تعداد زیادہ تھی ۔ ان میں سیاسی اعتبار سے حساس ضلع کنور میں سب سے زیادہ رائے دہی ہوئی جو پرامن تھی جبکہ پونانی انتخابی حلقہ میں سب سے کم رائے دہی ہوئی ۔ اہم حلقہ وایاناڈ سے صدر کانگریس راہول گاندھی مقابلہ کررہے ہیں ۔ گجرات میں تقریباً اوسط درجہ کی رائے دہی ہوئی۔ یہاں 26 لوک سبھا حلقوں میں رائے دہی ہورہی ہے ۔ کئی علاقوں سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چند مراکز پر ناقص کارکردگی کی شکایات وصول ہوئیں۔ سخت گرمی کے باوجود گجرات کے مراکز رائے دہی پر طویل قطاریں دیکھی گئیں ۔ ریاستی ایڈیشنل چیف الیکٹورل آفیسر اشوک مانک نے کہا کہ بعض ای وی ایم کے بارے میں ٹیکنیکل مسائل کی شکایتیں ہیں ۔ چھتیس گڑھ میں بھی دوپہر تک رائے دہی کا فیصد 30 تھا ۔ پڑوسی ریاست مہاراشٹرا میں تقریباً 38 فیصد رائے دہندوں نے شرکت کی ۔ آسام سے مراکز رائے دہی پر ای وی ایم سے متعلق ناقص کارکردگی کی شکایات وصول ہوئیں۔

TOPPOPULARRECENT