بی آر ایس دور کے عہدیداروں کی رپورٹ طلب، اہم پوسٹنگ کیلئے آئی اے ایس و آئی پی ایس عہدیدار سرگرم، انٹلی جنس سے رپورٹ طلب
حیدرآباد 27 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی اور لوک سبھا کی انتخابی سرگرمیوں کے اختتام کے بعد نظم و نسق پر توجہ مرکوز کی ہے۔ کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدوں کی تکمیل اور جاریہ سرکاری اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کے لئے چیف منسٹر نظم و نسق میں بڑے پیمانہ پر تبدیلیوں کی تیاری کررہے ہیں۔ 4 جون کو لوک سبھا نتائج کے اعلان کے بعد اُمید کی جارہی ہے کہ 11 جون تک اہم محکمہ جات میں ہر سطح پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔ تحصیلدار سے لے کر آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے تبادلے عمل میں لائے جائیں گے تاکہ نظم و نسق کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے انٹلی جنس سے رپورٹ حاصل کی ہے جس میں گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس حکومت سے قربت رکھنے والے عہدیداروں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ سابق حکومت سے قربت رکھنے والے عہدیداروں کو اہم ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جائے گا اور اُن کی جگہ نئے عہدیداروں کے تقررات عمل میں آئیں گے تاکہ کانگریس حکومت کی اسکیمات پر بہتر انداز میں عمل آوری ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں نے چیف منسٹر کے مشیروں سے ملاقات کرتے ہوئے بہتر پوسٹنگ کی نمائندگی کی ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس حکومت میں جن عہدیداروں کو نظرانداز کیا تھا وہ موجودہ حکومت میں اہم عہدے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اہم محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز کے لئے بااعتماد عہدیداروں کی فہرست تیار کی ہے۔ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کے بارے میں ریاستی وزراء کی جانب سے بھی چیف منسٹر کو سفارشات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے اختتام کے بعد نظم و نسق میں تبادلے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ انٹلی جنس کے ذریعہ گزشتہ 10 برسوں میں بدعنوانیوں کے الزامات سامنا کرنے والے عہدیداروں کی فہرست طلب کی گئی ہے۔ ایسے عہدیدار جن کے خلاف تحقیقات زیرالتواء ہیں اُنھیں بھی اہم محکمہ جات سے دور رکھا جائے گا۔ عہدیداروں کے خلاف عدالتوں میں زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ ایسے عہدیدار جن کے خلاف الزامات ہیں یا پھر مقدمات زیردوران ہیں اُنھیں اہم ذمہ داریوں سے دور رکھا جائے گا۔ طویل عرصہ سے ایک ہی عہدہ پر فائز عہدیداروں کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جن محکمہ جات پر چیف منسٹر نے توجہ مرکوز کی ہے اُن میں فینانس، ریونیو، پولیس، تعلیم، ہیلت، سیول سپلائز، شہری ترقی، زراعت، بلدی نظم و نسق، عمارات و شوارع، برقی اور پنچایت راج شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس ڈپارٹمنٹ میں انسپکٹر سے لے کر ایس پی اور ریونیو ڈپارٹمنٹ میں تحصیلدار، آر ڈی او، ڈی آر او سے کلکٹر تک تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ کیلئے جاری مساعی کے تحت اہم عہدیداروں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ عہدیداروں کی تبدیلی کی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی اہم عہدے حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ عہدیدار سرگرم ہوچکے ہیں۔ چیف سکریٹری شانتی کماری اور ریاستی وزراء سے اِس سلسلہ میں نمائندگی کی جارہی ہے۔ 1