مانسون کے پیش نظر، جی ایچ ایم سی نے شہر میں 480 خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کی

   

حیدرآباد 26 مئی (سیاست نیوز) مانسون کے قریب ہونے کے ساتھ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے پھر ایک مرتبہ قدیم، بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ جی ایچ ایم سی کے مانسون تیاری اقدامات کے سلسلہ میں کارپوریشن نے ایک سروے کیا اور 478 بوسیدہ عمارتوں کی نشاندہی کی جن کے بارے میں سمجھا گیا کہ یہ رہنے کے قابل نہیں ہیں اور ان عمارتوں میں رہنے والوں اور ان کے اطراف مقیم لوگوں کو ان سے خطرہ لاحق ہے۔ جی ایچ ایم سی نے یہ طے کیا کہ ان عمارتوں کو مکمل طور پر منہدم کردیا جائے یا ان میں اچھی طرح مرمتی کام انجام دیئے جائیں تاکہ ان عمارتوں میں مقیم لوگوں کی سلامتی یقینی ہو۔ مانسون بارش سے ان عمارتوں کی حالت مزید ابتر ہونے کا امکان ہے۔ ان کے گرنے اور جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ عہدیداروں نے یہ بات کہی۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے مطابق بیگم پیٹ علاقہ میں جو کارپوریشن کے سکندرآباد زون میں آتا ہے، سب سے زیادہ تعداد میں خستہ حالت کی عمارتیں ہیں جہاں 51 عمارتوں کو منہدم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ملک پیٹ میں بوسیدہ عمارتیں زیادہ ہیں جہاں اس طرح کی پچاس عمارتیں ہیں۔ جبکہ گوشہ محل اور چارمینار علاقوں میں بالترتیب اس طرح کی 31 اور 27 عمارتیں ہیں۔ پرانے شہر بشمول فلک نما، چندرائن گٹہ اور سنتوش نگر علاقوں میں خستہ حال عمارتوں کی کافی تعداد ہے۔