لفظ ’ماں‘ سے اُمید و محبت کا بھرپور اظہار ، والدین کے حقوق کو نظرانداز کرنا تشویشناک
نرمل۔ 10 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انسانیت کی زبان میں سب سے پیارا لفظ ’’ماں‘‘ ہے جس سے امید و محبت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ آج جب میں نے فون کھولا تو واٹس ایپ ’’یوم ماں‘‘ مبارک سے بھرا پڑا ہے، اس تناظر میں یوم ماں کے پس منظر میں کچھ سطور سپرد قلم کرنے کی جسارت کررہا ہوں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث بن سکے بلکہ ماں باپ کی اہمیت کا احساس جاگ اُٹھے۔ یاد رکھو! ماں وہ عظیم ہستی ہے جو اولاد کے سانس لینے کے طریقہ کار سے اندازہ لگالیتی ہے کہ رفتار کی وجہ دکھ ہے یا خوش۔ آج سماج میں والدین پر ہورہے مظالم کو سن اور دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ والدین کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں۔ تمہارے والدین تمہیں بچپن میں شہزادوں کی طرح پالتے ہیں لہٰذا تمہارا فرض بنتا ہے کہ ان کو بڑھاپے میں بادشاہوں کی طرح رکھو، کیونکہ ماں اپنے بچوں کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ کے حل کیلئے کوشاں رہتی ہے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر رب کریم سے دعائیں مانگتی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب وقت آپ کے خوابوں کو تہس نہس کررہا ہوتا ہے تو آپ کی ماں اپنے مصلیٰ پر اپنی دعاؤں میں اسے دوبارہ تعمیر کررہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں ماں کے قدموں کے نیچے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ یاد رکھو! ماں باپ کو ساتھ نہیں رکھا جاتا بلکہ ماں باپ کے ساتھ رہا جاتا ہے۔ آپ کے پاس یہ ان کی محنت کی وجہ سے ہے کیونکہ ماں دودھ ہی نہیں اپنا خون پلاکر اولاد کی پرورش کرتی ہے۔ ایک واقعہ میرے مطالعہ میں ہے جس کو قلمبند کررہا ہوں۔ شاید نسل نو اس کا مطالعہ کرے تو یقینا ان کے اندر احساس جاگ اُٹھے گا۔ چند برس پہلے چین میں زلزلہ آیا تو لوگوں کی بڑی تعداد اس آفت سماوی کی زد میں آگئی۔ شہر کی کئی عمارتیں کھنڈر میں تبدیل ہوگئی۔ عمارتوں کا ملبہ ہٹایا گیا تو 2 سالہ بچہ اور اس کی ماں کو بے ہوشی کی حالت میں ملبے سے نکالا گیا۔ ماں کے دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں زخمی زخمی تھیں۔ جبکہ نہ بچے کو خراش آئی اور نہ ہی ماں کو، بہرحال دونوں کو دواخانہ منتقل کیا گیا۔ چند دنوں بعد ماں اور بچے کی حالت بہتر ہوگئی۔ جب ماں سے پوچھا گیا کہ آپ کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں زخمی کیسے ہوئیں تو اس بچے کی ماں نے بتایا کہ کچھ دن بچے کو میں اپنا دودھ پلاتی رہی جب دودھ نہ رہا تو میں اپنی انگلی بچے کے منہ میں دے دی تھی لیکن بچہ بھوک کی وجہ سے چپ نہ ہوا اور مجھ سے اس کا رونا دیکھا نہ گیا تو پھر میں نے انگلش کو زخمی کرلیا ۔ جب انگلیاں سے خون نکلنے لگا تو میں نے انگلی بچے کے منہ میں دے دی۔ اس طرح میں نے اپنا خون پلاکر اپنے بچہ کو زندہ رکھا۔ ماں تیری عظمت کو سلام اور ہم کیا کررہے ہیں؟ کچھ تصاویر کو غور سے دیکھیں کہ کم عمر بچوں کی مائیں مرجاتی ہیں تو معصوم بچوں کا ماں کی قبر پر جاکر کس طرح روتے بلکتے ہیں ، ہمیں تصویر سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔