ملکاجگری کی موقو فہ جائیداد کے سروے نمبرات کو حذف کرنے کی مساعی،وزیراقلیتی بہبود کی لاعلمی کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے!
حیدرآباد۔12۔اگسٹ(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ میں موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے بجائے ان کی تباہی کے اقدامات میں دلچسپی دکھا رہا ہے۔تلنگانہ میں جن موقوفہ اراضیات کے موقف کو کئی برسوں سے نہیں چھیڑا کیا ان جائیدادوں کے موقف کوتبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کوششوں میں تلنگانہ وقف بورڈ کے صدرنشین اور اراکین کا کوئی کردار نہیں رہا بلکہ بورڈ کے چیف اکزیکٹیو آفیسر کے مکتوب کی بنیاد پر ان جائیدادوں کو وقف جائیدادوں کی فہرست سے حذف کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ملکا جگری میں واقع موقوفہ جائیداد کے سروے نمبرات کو ریکارڈس سے حذف کروانے کے لئے جو کوششیں کی جا رہی ہیں وہ دراصل ریاستی وزیر اقلیتی بہبود پر دباؤکا نتیجہ ہیں ۔بتایاجاتاہے کہ جناب محمد اظہر الدین جو کہ ’’قوانین وقف‘‘ سے واقف نہیں ہیں انہیں گمراہ کرتے ہوئے یہ باور کروایا جا رہاہے کہ بہ حیثیت وزیر انہیں تمام اختیارات حاصل ہیں اور ان سے غیر قانونی کام کروائے جانے لگے ہیں۔ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کی معصومیت اور لاعلمی کا فائدہ اٹھانے والوں میں ان کے قریبی افراد کو محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو یہ باور کروارہے ہیں محکمہ اقلیتی بہبود میں وزیر برائے نام ہے اور وزارت و محکمہ کے تمام امور ان کی اپنی نگرانی میں انجام دیئے جا رہے ہیںوہ لوگ راست اس تباہی کے لئے ذمہ دار ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی سے قریبی تعلقات کی بنیاد پر محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہراساں کرنے والے ’’نوواردسیاستداں‘‘ جو خود کو مسلمانوں کے کاز اور ان کے امور کا چیمپئن تصور کرنے لگے ہیں وہ ملکا جگری اراضیات میں حاصل کی گئی اراضیات کو ’’وقف‘‘ رجسٹر سے حذف کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ وقف بورڈ کے اس اقدام سے 10ہزار مکینوں کو فائدہ پہنچانے کے نام پر کانگریس کے ایک ’سرکردہ ‘ قائد نے جو اراضی خریدی تھی اس اراضی کو وقف کی فہرست سے خارج کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین وعہدیداروں کا کہناہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے محمد اسداللہ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود محض اس اراضی کی معاملت کو یقینی بنانے کے لئے وقف بورڈ میں باقی رکھنے کے اقدامات کئے تھے اور سابق میں چیف منسٹر کے دفترمیں خدمات انجام دینے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی ’’ملکاجگری‘‘ کی موقوفہ اراضی کو وقف رجسٹر سے خارج کروانے کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت دیتے رہے تھے۔ بتایا جاتاہے کہ سی ای او وقف بورڈ نے جو مکتوب گزٹ میں تبدیلی کے لئے جاری کیا ہے وہ دراصل ’’سرکار‘‘ کی ہدایت پر جاری کیا گیا ہے اور صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی یا کوئی رکن وقف بورڈ اس مکتوب سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی اس مکتوب کی نقل صدرنشین وقف بورڈ کو روانہ کی گئی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے سی ای او وقف بورڈ کو اس بات کی طمانیت دی ہے کہ ’ملکاجگری‘ معاملہ کی یکسوئی اور جائیداد کے ریکارڈ کو حذف کرنے کے بعد ’وقف بورڈ‘ کو نااہل قرار دیتے ہوئے برخواست کردیا جائے گا اور انہیں ’اسپیشل آفیسر ‘ کے عہدہ پر فائز کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقوفہ اراضی کو وقف رجسٹر سے حذف کرنے سے کن لوگوں کو فائدہ حاصل ہوگا جلد ہی دستاویزات کے ساتھ اس بات کا انکشاف کیا جائے گا۔3