مختلف محکمہ جات سے جی ایچ ایم سی کو کروڑہا روپئے وصول طلب

   

مکمل بقایا جات کی وصولی پر ترقی کاموں کی تکمیل ممکن ، ایک سال کے بجٹ کا تخمینہ
حیدرآباد۔17۔مئی۔(سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو تلنگانہ حکومت کے محکمہ جات کی جانب سے ادا شدنی بقایا جات ادا کردیئے جانے کی صورت میں جی ایچ ایم سی کے حدود میں کروڑہا روپئے کے ترقیاتی کام انجام دیئے جا سکتے ہیں ۔ حکومت کے مختلف محکمہ جات مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو اداشدنی جائیداد ٹیکس ادا کرنے کے اقدامات کرتے ہیں تو بلدیہ کو ایک سال کا بجٹ حاصل ہوگا۔ جی ایچ ایم سی کو وصول طلب جائیداد ٹیکس کی تفصیلات کے حصول کی کوشش کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ بلدی حدود میں موجود سرکاری محکمہ جات کی جائیدادوں سے بلدیہ کو 5258 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں ۔ فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے قانون حق آگہی کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں ہوئے اس انکشاف کے مطابق ریاستی حکومت کے تحت موجود عمارتوں سے 306کروڑ روپئے وصول طلب ہیں جبکہ محکمہ صحت سے 1185 کروڑ 18 لاکھ روپئے مجلس بلدیہ کو ادا شدنی ہیں۔محکمہ آبکاری کی جانب سے جی ایچ ایم سی کو 895 کروڑ کا ٹیکس بقایا وصول طلب ہے جبکہ محکمہ آبپاشی کی سالانہ آمدنی 35 ہزار کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ محکمہ پولیس جی ایچ ایم سی کو 420کروڑ باقی ہے اور محکمہ تعلیم کی جانب سے 385 کروڑ کے بقایاجات ادا شدنی ہیں۔محکمہ محابس شہری حدود میں 71کروڑ 77 لاکھ ادا شدنی ہے اور عارضی سیکریٹریٹ کی عمارت جو کہ بی آر کے بھون میں موجود ہے جہاں ریاستی وزراء کے علاوہ معتمدین محکمہ جات موجود رہتے ہیں اس عمارت کا 67 کروڑ ٹیکس ادا شدنی ہے۔ محکمہ آبرسانی جی ایچ ایم سی کو 70کروڑ بطور ٹیکس ادا کرنا ہے اور تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ کی جانب سے 47کروڑ 19 لاکھ کا بقایا ہے جو جی ایچ ایم سی کو ادا کیا جانا ہے۔ شہر میں موجود اسٹیڈیم اور کھیلوں کے دفاتر سے جی ایچ ایم سی کو 58کروڑ44لاکھ وصول طلب ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی بنیادی آمدنی جائیداد ٹیکس ہی ہیں لیکن جی ایچ ایم سی کی جانب سے خانگی جائیدادوں سے ٹیکس وصولی پر توجہ دی جاتی ہے اور سرکاری محکمہ جات سے وصول طلب ٹیکس کی وصولی پر توجہ نہ دیئے جانے کے سبب ہزاروں کروڑ کے بقایاجات کئی برسوں سے ہیں ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی جانب سے مختلف محکمہ جات کو پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کے لئے متوجہ کروایاجاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ٹیکس وصول نہیں ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ خانگی جائیدادوں کے ٹیکس کی عدم ادائیگی کی صورت میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی جانب سے گھریلو سامان ضبط کرنے کی دھمکی کے علاوہ جائیدادوں کو مہر بند کرنے اور تجارتی لائسنس کی منسوخی کا انتباہ دیا جاتا ہے لیکن سرکاری جائیدادوں سے جو ٹیکس وصول طلب ہے اگر اس ٹیکس کو وصول کرنے میں بلدیہ کامیاب ہوتی ہے تو ایسی صورت میں جی ایچ ایم سی کو قرض حاصل کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ اپنی آمدنی سے شہر میں ترقیاتی کاموں کو انجام دے سکتی ہے۔م