مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو 40 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے جائیں

   

میٹرو ، موسیٰ پراجکٹ ، فیوچر سٹی ، ریجنل رنگ روڈ کے لیے ریاستی حکومت کی مرکز کو تجاویز روانہ
اسپورٹس ، اسکل یونیورسٹی ، IIM ، سنٹرل اسپانسرڈ اسکیمات اور زیر التواء فنڈز فوری جاری کرنے کی اپیل
حیدرآباد 21 جنوری : ( سیاست نیؤز ) : تلنگانہ حکومت نے ریاست میں شروع کئے گئے ترقیاتی پراجکٹس اور آئندہ شروع کئے جانے والے پراجکٹس کیلئے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو 40 ہزار کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے ۔ موسیٰ ریور پراجکٹ ، میٹرو ریل کی توسیع ، فیوچرسٹی ، ریجنل رنگ روڈ ، ریڈئیل روڈ پراجکٹس ، اسپورٹس ، اسکل یونیورسٹی کی تعمیرات کیلئے فنڈس جاری کرنے پر زور دیا ہے ۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کیلئے مختلف تجاویز کو روانہ کیا ہے ۔ آئندہ چار سال تک مرکز کے ہر بجٹ میں اسی مناسبت سے فنڈز مختص کرنے پر زور دیا ہے ۔ مرکز کے تعاون سے ریاست کی ترقی میں تیزی پیدا ہونے کا دعویٰ کیا ۔ جس کے نتیجہ میں مرکز نے 5 ٹریلین ڈالر ملک کی اکنامی کا جو نشانہ مختص کیا ہے ۔ اس میں ایک ٹریلین ڈالر کی حصہ داری تلنگانہ سے حاصل ہونے کا یقین دلایا ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کو سنٹرل نوودیہ تعلیمی ادارے منظور کرنے ، تقسیم ریاست کے بل سے متعلق زیر التواء فنڈز کو فوری جاری کرنے ، سنٹرل اسپانسرڈ اسکیمات کو ریاست میں عمل کرنے تیار رہنے کا تیقن دیا ۔ سابق بی آر ایس حکومت نے چند اسکیمات کے فنڈز کا بیجا استعمال کیا ۔ جس کی وجہ سے مرکز تلنگانہ کو فنڈز جاری نہیں کررہا ہے ۔ اگر مرکزی حکومت مختلف اسکیمات کیلئے فنڈز جاری کرتی ہے تو ریاست کی حصہ داری جاری کرکے عمل کا اعلان کیا ۔ آندھرا پردیش کے طرز پر تلنگانہ کو بھی مساوی فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ موسیٰ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے تحت دریائے گوداوری سے 20 ٹی ایم سی پانی حیدرآباد میں پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے 7.440 کروڑ روپئے کا تخمینہ ہے ۔ ساری رقم ادا کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے حصہ کے طور پر گاندھی سرور کی تعمیرات ، موسی سیوریج پراجکٹس ، 11 ہیرٹیج بریجس کی تعمیرات کے علاوہ دیگر کاموں کیلئے 14,100 کروڑ روپئے کے اخراجات ہیں ۔ ان ترقیاتی کاموں کیلئے مرکزی حکومت تعاون کرے ۔ ٹریپل آر شمال ، جنوب کے تمام اقسام کی منظوریاں دینا اور تعمیرات کرنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ریجنل رنگ روڈ کے علاوہ ریڈئیل سڑکیں بچھائی جاری ہیں اس کی تکمیل سے فارما انڈسٹری و انڈسٹریل لاجسٹک پارکس ، ریکریشن پارکس جیسے ترقیاتی اقدامات انجام پائیں گے ۔ ریجنل رنگ روڈ کے تخمینہ کا اندازہ 34,367.62 کروڑ روپئے لگایا گیا ہے ۔ آوٹر رنگ روڈ ، ریجنل رنگ روڈ کو ایک دوسرے سے جوڑنے ریڈئیل سڑکیں تعمیر کی جارہی ہیں ۔ 10 گرین فیلڈ سڑکوں کے علاوہ آوٹر رنگ روڈ کو مربوط کرنے والے میٹرو کاریڈور ریڈئیل روڈس کی تعمیرات کیلئے 45 ہزار کروڑ کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے بھی مرکزی بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا ۔ میٹرو ریل کی توسیع کے لیے مرکز اور ریاستی حکومت 50:50 حصہ کے تحت میٹرو فیس 2 کی تعمیرات کیلئے بجٹ میں فنڈز مختص کرے ۔ 76.4 کلو میٹر میٹرو ریل تعمیر کی جارہی ہے ۔ جس کا ڈی پی آر مرکزی حکومت کو روانہ کردیا گیا ہے ۔ میٹرو ریل کی تعمیرات کیلئے 24,269 کروڑ کا خرچ ہے ۔ ریاست میں فیوچرسٹی کی تعمیر کیلئے مرکزی بجٹ میں فنڈز فراہم کریں ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ مضافات کے 27 میونسپلٹیز میں 7444 کلو میٹر سیوریج نیٹ ورک کاموں کیلئے 17,212.69 کروڑ کے مصارف ہیں ۔ امرت 2 یا خصوصی پراجکٹ کیلئے مرکز فنڈز فراہم کرے ۔ ورنگل میں انڈر گراونڈ ڈرینج کیلئے 4170 کروڑ روپئے کا خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے ۔ اس کی مرکزی حکومت مکمل مدد کرے ۔ پالمور ، رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پراجکٹ کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری کیا جائے ۔ ریاست کے پسماندہ اضلاع کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت فنڈز جاری کرتی ہے ۔ 2 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ فنڈز زیر التواء ہیں ان کو فوری جاری کیا جائے اور نئے بجٹ میں مزید فنڈس مختص کئے جائیں ۔ ریاست کیلئے IIM الاٹ کیا جائے ۔ صنعتی کاریڈور کیلئے فنڈ جاری کیا جائے ۔ کریم نگر ، جنگاؤں ، اضلاع میں لیدر پارکس کے قیام کے لیے فنڈز جاری کرنے کا مرکز سے مطالبہ کیا ۔۔ 2