موسیٰ رام باغ چوراہا پر بھارت بند احتجاجی ریالی سے وزیر داخلہ محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد: ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے مرکزی زرعی قوانین کو سیاہ قوانین قرار دیتے ہوئے اس سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ بصورت دیگر احتجاج میں شدت پیدا کر نیکا انتباہ دیا ۔ آج موسیٰ رام باغ چوراہے پر بھارت بند ریالی سے خطاب کرتے ہوئے محمد محمود علی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ایوانوں میں عددی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مخالف کسان قوانین منظورکروائے ۔ ان قوانین کی ٹی آر ایس کے بشمول دوسری جماعتوں نے مخالفت کی ہے مگر وزیر اعظم نے سیاسی جماعتوں اورکسان تنظیموں کو اعتماد میں لینے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ حکومت نے کارپوریٹ اداروں کے دباؤ کا شکار ہوکر انہیں فائدہ پہنچانے کیلئے کسانوں کا نقصان کردیا ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کسان ہمدرد ہیں ۔ انہوں نے ان قوانین کے خلاف بھارت بند میں حصہ لینے کی پارٹی کیڈر کو ہدایت دی ہے اور ٹی آر ایس ان سیاہ قوانین سے دستبرداری تک اپنے احتجاج کو جاری رکھے گی ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ 10 دن سے دہلی میں سردی کی پرواہ کئے بغیر کسان بوڑھے ، بچے ، خواتین زبردست احتجاج کر رہے ہیں مگر مرکزی حکومت ان کے مسائل سے واقف ہونے اور ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاہ قوانین پر مرکزی حکومت نظرثانی کریں، بصورت دیگر اس کا خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار ہوجائے۔ محمد محمود علی نے تلنگانہ حکومت کے موافق زراعت اور کسان فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو اقدامات کئے جارہے ہیں، وہ مثالی ہیں۔ ریاست کو (Rice Bowl) میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ زراعت کو تقویت پہنچانے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ مشین کا کتیہ کے تحت 45,000 تالابوں کا احیاء کیا گیا ہے جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ حکومت بڑے پیمانے پر ارا ضی کو سیراب کرنے کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے کام کر رہی ہے ۔ ریاست میں زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے جس پر سالانہ 10 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ کسانوں کو راحت فراہم کرنے کیلئے 28 ہزار کروڑ روپئے کا قرض معاف کردیا گیا ہے۔