مرکز نے دھان خریدنے سے کبھی انکار نہیں کیا: جی کشن ریڈی

   

بی سی۔ ایس ٹی اور اقلیتی طبقات۔ دلت بندھو جیسی اسکیمات کے منتظر
حیدرآباد ۔ 13 نومبر (سیاست نیوز) مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے دھان کی خریدی کیلئے دہلی پہنچ کر مرکزی حکومت سے تبادلہ خیال کرنے کے بجائے ٹی آر ایس کے تلنگانہ میں کئے گئے احتجاج کو مضحکہ خیز قراردیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جی کشن ریڈی نے کہا کہ مرکز نے دھان خریدنے سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن کسانوں کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے مگرمچھ کے آنسو بہانے کیلئے ٹی آر ایس نے احتجاج کیا۔ اگر اس کے بجائے ملازمتوں کے تقررات، ایوشمان بھارت، دلتوں کو تین ایکر اراضی، ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیرات پر توجہ دی جاتی تو کئی عوامی مسائل حل ہوسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضورآباد ضمنی انتخابات کے بعد دلت بندھو اسکیم پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر ابھی تک اس پر عمل آوری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ بی سی۔ ایس ٹی اور اقلیتی طبقات بھی بڑی بے چینی سے اس اسکیم کا انتظار کررہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے استفسار کیا کہ ریاست میں کوئی کسان بائیلڈ رائس کی کاشت کررہے ہیں کیا؟ بائیلڈ رائس رائس میلری کا مسئلہ ہے۔ مرحلہ وار اساس پر اس کو گھٹانے کا مرکزی حکومت مشورہ دے رہی ہے۔ اس مسئلہ پر تلنگانہ حکومت رائس ملرس سے بات چیت کرنے کے بجائے کسانوں اور مرکزی حکومت کو بدنام کررہی ہے۔ دھرنا چوک کی مخالفت کرنے والوں کی جانب سے دھرنا چوک پر دھرنا منظم کرنے پر کشن ریڈی نے حیرت کا اظہار کیا۔ ن