مسلم مسائل کے حل کیلئے لیگل سیل کی ضرورت: مولانا حافظ احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد، 12 ستمبر (راست) مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمد الحمومی القادری (امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام) نے شاہی مسجد باغ عام میں کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ایک بااعتماد، مضبوط اور مکمل انسان بناتی ہے۔ رسول اکرمؐ کی سیرت شریعت اسلامیہ کے ایک ایک حکم کی حفاظت کے لیے راہ نما ہے۔ جیسے ہم اپنے بچوں کی ہمہ وقت حفاظت کرتے ہیں؛ اسی طرح ہمیں یہ فکر ہونا چاہیے کہ ہماری شریعت کا کوئی ایک حکم بھی ٹوٹ نہ پائے۔ ہندوستان میں ہر روز مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہورہی ہے اور ہماری سیکڑوں تنظیمیں نقصان ہونے کے بعدصرف مذمتی بیانات جاری کرتی ہیں لیکن نقصان ہونے سے پہلے کسی کو بھی فکر نہیں ہوتی۔اس کی ایک مثال رواں برس21 اگست کو الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ ’حجاب اسلام کا بنیادی حصہ نہیں ‘ ہے۔ یہ فیصلہ ایک لڑکی کا عدالت سے رجوع ہونے کے بعد آتا ہے۔ اب سوال تمام مسلم تنظیموں سے یہ ہے کہ کیا آخر اسلام میں پردہ لازمی ہے یا نہیں؟ ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کی جانب سے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ پردہ ضروریات دین میں سے ہے۔ جب کہ مسلم خواتین میں بلا کسی مسلکی اختلاف کے چودہ سو سال سے پردہ کا اہتمام جاری ہے۔ اب مسلم پرسنل لا بورڈ کے پاس محض مذمتی بیان جاری کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ ایسے لوگ جو اسلام کی بنیادوں پر عدالتوں میں جا کر فیصلے صادر کرواتے ہیں؛ ان کے سلسلے میں پہلے سے ہماری پاس کس طرح کی تیاری ہے؟ مسلمانوں کی تمام تنظیمیں خاموش ہیں۔اس کی دوسری مثال حیدرآباد میں گستاخ رسولؐ ملعون گوشہ محل ایم ایل اے کا کیس ہے۔ اس نے 2022 میں حضور رسالت مآبؐ کی شان میں سخت ترین گستاخی کی ، جس سے ہر مسلمان کا دل مجروح ہوتا ہے، اس معلون پر پی ڈی ایکٹ لگایا گیا۔ لیکن کسی ملی تنظیم کو اس میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی کہ وہ یہ معلوم کرسکے کہ عدالتی کاروئی کس طرح چل رہی ہے۔ کسی مسلم تنظیم نے اس کی پیروی نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ شکایت درج کرنے والے کو اپنا بنایا گیا۔ جس گستاخ نے گستاخی کی تھی؛ شکایت کنندہ سے بھی وہ گستاخی کرائی گئی اور یہاں تک کہلوایا گیا ہے کہ جس کے بارے میں شکایت کی گئی تھی، اس نے صحیح کہا ہے اور قرآن و حدیث کے مطابق کہا ہے۔ جن مسلم اداروں کو مٹھی بھر بھر کر چندے ملتے ہیں، ان میں سے کسی نے بھی پہل نہیں کی اور سب خاموش ہیں۔ بعض اوقات مجرم عدالتی کاروائی میں جھوٹ بول کر بری ہوتے ہیں۔ گواہوں کو پلٹایا جاتا ہے۔ یہ گستاخ رسولؐ اگر اپنی بات کہہ کر مکر جاتا یا جھوٹ بولتا تب تو بات کوئی اور تھی؛ لیکن ملعون نے اپنی بات پر اڑے رہ کر ان باتوں کا اقرار کیا ہے۔ کیا یہ پوری امت کا مسئلہ نہیں تھا؟ اب دینی جامعات کو اٹھ کر آگے آنا ہوگا کہ ان کا کام صرف طلاق، خلع اور حیض سے متعلق بتانا ہی نہیں ہے۔ ان مدارس کا مسئلہ صرف بورڈنگ میں پڑھنے والوں طلبہ کے کھانے تک محدود نہیں ہے۔ ان جامعات اور مدارس کا صرف یہ کام نہیں کہ دو دو ہاتھوں سے چندہ لیں اور خرچ کردیں۔ ان سب کو امت پر آنے والے حالات کے سلسلے میں حساس اور ذمہ دار بننا ہوگا۔ بڑے بڑے چندے اور جائیدائیں مدارس اور جامعات کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ ناموس رسالتؐ اور اسلامی شریعت کی حفاظت کرسکے۔ عوام تو اسی مقصد اور منشا کے تحت دینی اداروں کا تعاون کرتی ہے۔ حجاب اور گستاخی رسالت مآبؐ کی یہ صرف حال کی دو مثالیں ہیں۔ مسلم وکلا برادری اور علما کے ساتھ پوری امت اس کی ذمہ دار ہیں۔ضرورت اس کی ہے کہ ہمارے مفتیوں اور وکلا میں آپسی افہام و تفہیم ہو۔ ہماری پاس 27/7 ہمیشہ سرگرم ایک لیگل سیل ہونا چاہیے۔ جو ہمیشہ متحرک رہے۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ آج مساجد کے بارے میں جس طرح کے حالات ہندوستان بھر میں رونما ہورہے ہیں۔ اس پر میں گذشتہ آٹھ برس سے توجہ دلا رہا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ نئی مساجد کی تعمیر سے زیادہ اپنی موجودہ مساجد کی حفاظت اور ان کا Legal Documentationضروری ہے اور آج کا یہ بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ مسلم وکلا کی ایک ایسی ٹیم ہونا چاہیے کہ اگر کیسی محلہ کی مسجد پر خطرہ منڈلاتا ہو تو اس سے قبل وہ مسجد کی Legalityکو ثابت کرسکے۔ جیسے ہم ختم قرآن پڑھنے والوں کو آسانی سے ڈھونڈ لیتے ہیں، اسی طرح ہمارے وکلا ء کی ٹیم دستیاب ہو۔ یہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ مسلم وکلاء سال بھر اپنی پرایکٹس کریں، ساتھ میں مساجد کی تحفظ کے لیے بھی کام کریں اور قانونی دستاویزات کی ایسی فہرست جاری کریں جو مسجد کو قانونی حیثیت کے سلسلے میں ضروری ہو۔ ہم سیاستدانوں سے بھی یہ بات دوٹو ک انداز میں کریں کہ وہ ہماری مساجد کی حفاظت کے سلسلے میں ہمیں تیقن دیں۔