چیف منسٹر انہدام کی وجوہات بیان کریں، محمد علی شبیر کا مطالبہ
حیدرآباد ۔5 ۔اگست (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ شمس آباد کی مسجد خواجہ محمود کے انہدام کی پردہ پوشی کیلئے کے سی آر اپنی حلیف جماعت مجلس کا استعمال کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے مسجد خواجہ محمود کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ حکام نے غیر قانونی طورپر مسجد کو شہید کردیا تھا۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد کے انہدام کی وجوہات کی وضاحت کریں۔ کانگریس قائد نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے سارے علاقہ کی ناکہ بندی اور مقامی شہریوں کو گھروں میں محروس کرتے ہوئے مسجد کو منہدم کیا۔ سارے علاقہ میں برقی سربراہی منقطع کردی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جنگی خطوط پر مسجد کی انہدامی کارروائی انجام دی گئی ۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں اور مذہبی تنظیموں کے احتجاج کے بعد حکومت نے دوبارہ تعمیر کی اجازت دی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تعمیر کی اجازت سے ٹی آر ایس حکومت مسجد کی شہادت کے جرم سے بچ نہیں سکتی۔ حکومت کو پہلے اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ کن بنیادوں پر مسجد کو شہید کیا گیا۔ مسجد کے انہدام میں چیف منسٹر کے دفتر اور ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کا کیا رول ہے۔ پولیس کی بھاری جمیعت کی تعیناتی اور مسجد کے انہدام سے کیا وزیر داخلہ واقف تھے؟ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ مسجد کی شہادت کے ذریعہ مجلس کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ مجلس کے قائدین دوبارہ تعمیر کا سہرا اپنے سر باندھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مجلس اسد اویسی کو مسجد کی شہادت پر اپنی خاموشی کی وضاحت کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کو سیاسی کریڈٹ فراہم کرنے کے علاوہ ٹی آر ایس حکومت اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے ریاست بھر میں گزشتہ 8 برسوں میں 6 مساجد کو شہید کیا ہے۔ ر