مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے خود فرقہ پرست اور دہشت گرد ہیں

   

دارالعلوم دیوبند میں یوم آزادی کی تقریب سے مولانا ارشد مدنی کا خطاب

نئی دہلی، 16 اگست (یو این آئی) ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کی جنگ آزادی میں انمٹ اور ناقابل فراموش خدمات کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند اور ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدارس اسلامیہ نے جنگ آزادی میں اس وقت کردار ادا کیا تھا جب پورا ملک انگریزوں کی دہشت میں مبتلا تھا۔انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھو، قربانیاں ہم نے دی ہیں، جن مدارس کے حجروں، درسگاہوں اور خانقاہوں سے غلامی کے خلاف آزادی کا صور پھونکا گیا، آج انہی کو دہشت گردی سے جوڑنا تاریخ کو مسخ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے قومی یکجہتی اور سیکولرازم کا تصور اس وقت پیش کیا تھا جب جلاوطن حکومت قائم کی گئی تھی۔ انہوان نے کہا کہ کابل کی جلاوطن حکومت میں ہندو راجہ مہندر پرتاپ صدر، کو بنا کر ہمارے اکابر نے آزادی سے پہلے ہی سیکولرازم کا تصور دیا اور افسوس آج فرقہ پرست طاقتیں سیکولر کا لفظ دستور سے نکالنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکولرازم ہندستان کی شناخت ہے اور اس کی روح ہے اور جس دن ملک سے سیکولرازم نکل جائے گا اس دن ملک کا تانا بانا بکھر جائے گا۔ انہوں نے ملک کے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مسلمان نشانے پر تھے ، اب اسلام بھی نشانے پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے ، اسلام زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ انہوں نے اسلاف کی جنگ آزادی میں نمایاں کردار اور آزادی کی قیمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھو قربانیاں ہم نے دی ہیں ہندوستان کی جنگ ازادی کی تاریخ دارالعلوم دیوبند ، علماء، مدارس اور مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کے ذکر کے بغیر نہ لکھی جا سکتی ہے اور نہ سمجھی جا سکتی ہے اور خاص کر دارلعلوم دیوبند کی کیوں کہ دالعلوم دیوبند کا قیام 1857 میں قتل عام کے بعد 1866 میں کیا گیا تھا دارلعلوم کا قیام ہی مجاہدین ازادی پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ افسوس آج تاریخ کو مسخ کر کے انہیں مدارس کو دہشت گردی سے جوڑنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے جن کے حجروں درسگاہوں اور خانقاہوں سے غلامی کے خلاف سب سے پہلے ازادی کا سور پھونکا گیا تھا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ تحریک ریشمی رومال اور مالٹا کی اسیری ہماری تاریخ کے ایسے روشن ابواب ہیں جنہیں کوئی فرقہ پرست طاقت مٹا نہیں سکتی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء کو سات سمندر پار مالٹا میں اس لیے قید کیا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کو برطانوی غلامی سے ازاد دیکھنا چاہتے تھے فرقہ پرستوں سے سوال ہے کہ جب ہمارے اکابر مالٹا میں قید تھے اور علماء انگریزوں کے خلاف جیلیں بھر رہے تھے اور ازادی کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے تو اج حب الوطنی کا سند بانٹنے والوں کے نظریاتی پیشوا اس وقت کہاں تھے اس لیے مسلمانوں اور مدارس سے وطن پرستی کا ثبوت مانگنے سے پہلے انہیں تاریخ کے ائینے میں اپنا ماضی دیکھنا چاہیے ۔