فرقہ پرست پارٹی کو تحفظات کھٹکنے لگے، مسلمان کے ساتھ ہمدردی کرنے والی جماعت بھی خاموش تماشائی
حیدرآباد ۔ 15 اکٹوبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی دعویدار سیکولر جماعتیں بھی کیا مسلمانوں کی حقیقی ترقی نہیں چاہتی۔ مسلمان جو ہر شعبہ حیات میں پسماندہ ہیں کیا ان کی ترقی ان سیکولر جماعتوں کو گوارہ نہیں۔ یہ ایسا سوال ہے جو ان دنوں تلنگانہ کی مسلم عوام میں گشت کررہا ہے۔ 4 فیصد تحفظات کو لاحق خطرہ اور بی جے پی کی تحفظات کو برخاست کروانے کی انتھک کوشش ان دنوں مسلمانوں میں بے چینی اور سیکولر جماعتوں کی خاموشی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تو مسلمانوں کی ازل سے مخالفت کا ٹھیکہ دار تصور کی جاتی ہے لیکن ایسی سیکولر جماعتیں بھی خاموش ہیں جو مسلمانوں کی ہمدردی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ انہیں سیکولر جماعتوں کے اقدامات کے سبب مختلف کمیٹیوں کو قائم کیا گیا تھا جنہوں نے مسلمانوں کی ہر شعبہ حیات میں نمائندگی اور فیصد کو کھول کر بتادیا اور یہ صاف طور پر ظاہر ہوگیا کہ مسلمان ہر شعبہ حیات میں بچھڑے ہوئے طبقات سے بھی پیچھے ہیں تو پھر آخر کیا وجہ ہیکہ کوئی مسلمانوں کے حق میں بات نہیں کرتا۔ سماج کے ہر طبقہ کی ترقی میں ملک کی ترقی کا دعویٰ کرنے والے بھی مسلم تحفظات حق میں بات نہیں کرتے۔ ان کمیٹیوں کی رپورٹس کیا مسلمانوں کی حالت زار کو بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش تو نہیں کی۔ ہم نے مسلمانوں کو اس قدر پیچھے چھوڑ دیا کہ اب وہ سماج میں سب سے پچھڑ گئے ہیں۔ ایسے ہی کچھ سوالات اور قیادت مسلمانوں کے درمیان سیکولر جماعتوں کے مشکوک رویہ سے پائے جاتے ہیں یا پھر ایسا ہوسکتا ہیکہ مسلمان کا آگے بڑھنا خود انہیں بھی گوارہ نہیں بلکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد تو 12 فیصد تحفظات کا کے سی آر نے وعدہ کیا تھا اور تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور 4 فیصد تحفظات کیلئے بھی اب کوئی اقدام نہیں کیا جاتا تاکہ ان تحفظات کو لاحق خطرہ تحفظات کو بچایا جاسکے۔ 4 فیصد تحفظات بی سی ای کے تحت ریاست میں مسلمانوں کو تعلیمی، سیاسی اور روزگار کے میدان میں فائدہ حاصل ہوا۔ ایسے کالجس میں مسلمانوں کو موقع ملا جن میں داخلہ کیلئے مسلمانوں کے یہاں کوئی آپشن نہیں تھا اور سرکاری ملازمتوں میں بھی مسلمانوں کوان 4 فیصد تحفظات سے سرکاری خدمات کا موقع حاصل ہوا۔ ریاست کے مسلمانوں کی سوچ اور سمجھ سے یہ بات باہر تھی اور تصور کرنا بھی محال تھا کہ دیہی سطح پر گرام پنچایت وارڈس سے لیکر کارپوریشن اور گریڈ کارپوریشن میں بھی انہیں موقع ملے گا۔ سرپنچ کی حیثیت سے مقرر ہونا تو بہت ہی مشکل تھا تاہم 4 فیصد تحفظات کے تحت سیاسی طور پر مسلمانوں کو مستحکم ہونے کا موقع حاصل ہوا۔ سال 2013 اور 2014ء کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست تلنگانہ میں بی سی ۔ (ای) کے تحت زیڈ پی ٹی سی (مرد اور خاتون) (6) امیدوار منتخب ہوئے جبکہ بی سی (ای) مرد اور خواتین (103) امیدوار منتخب ہوئے اس طرح آندھراپردیش میں 17 زیڈ پی ٹی سی اور 103 ایم پی ٹی سی امیدوار منتخب ہوئے۔ بی سی (ای) زمرہ کے تحت مجالس مقامی میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوا۔ جملہ 913 نمائندے اس زمرے کے تحت منتخب ہوئے جن میں ریاست تلنگانہ سے 307 اور ریاست آندھراپردیش سے 606 نمائندے شامل ہیں۔ ریاست تلنگانہ کی جملہ 8701 سرپنچ نشستوں میں 89 امیدوار اور آندھراپردیش کی کل 12770 سرپنچوں میں 177 مسلم سرپنچ منتخب ہوئے۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کے تحت تلنگانہ کی میونسپلٹیز، نگر پنچایت کی کل 1399 نشستوں میں 114 جبکہ جنرل میں 92 اس طرح کل 206 امیدوار منتخب ہوئے۔ میونسپل کارپوریشن کو 150 نشستوں میں بی سی ای کے تحت 13 امیدوار منتخب ہوئے۔ بی سی کے تحت تلنگانہ میں ایک میئر، ایک چیرمین، 7 وائس چیرمین، 13 کارپوریٹرس، 4 زیڈ پی ٹی سی، 114 کونسلرس، 73 ایم پی ٹی سی، 2 ایم پی پی صدر، 89 گرام پنچایت سرپنچ کا انتخاب یقینی ہوا جبکہ ریاست آندھراپردیش میں 2 میئر، 2 ضلع پریشد چیرمین، 4 چیرمین، 11 زیڈ پی ٹی سی، 163 ایم پی ٹی سی، ایک منڈل پریسیڈنٹ اور 177 گرام پنچایت سرپنچ شامل ہیں۔ع