مسلمانوں کے مسائل کے حل سے عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی کی مثال

   

خیریت آباد میں مسلم قبرستان کا وعدہ وفا نہ ہوسکا، ڈی ناگیندر رکن اسمبلی کی نااہلی

حیدرآباد۔19۔ستمبر۔(سیاست نیوز) مسلمانوں کے مسائل کے حل سے عوامی نمائندوں کو قطعی دلچسپی نہیں ہوتی اور اگر وہ دلچسپی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو انتخابات سے عین قبل ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے عوام کے درمیان نہ صرف خود وعدہ کرتے ہیں بلکہ ان کی تائید کرنے والے قائدین و ذمہ داروں سے بھی اعلان کرواتے ہیںلیکن کامیاب ہونے کے بعد ان مسائل کو فراموش کرجاتے ہیں اس کی مثال سابق رکن اسمبلی ڈی ناگیندر ہیں۔خیریت آباد رکن اسمبلی کی حیثیت سے ڈی ناگیندر نااہل قرار دے دیئے گئے لیکن انتخابات سے قبل کئے گئے وعدہ کے متعلق انہوں نے گذشتہ 2برسوں کے دوران ایک جملہ بھی نہیں کہا۔بھولے صاحب مقطعہ سے متصل دو ایکڑ قبرستان کی اراضی کا مسئلہ جو کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہے اس مسئلہ کو حل کرنے کا ڈی ناگیندر نے اپنے اسمبلی انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حلقہ اسمبلی خیریت آباد بالخصوص سوماجی گوڑہ ‘ پنجہ گٹہ ‘ کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں کے مسلمانوں کی تدفین کے مسئلہ کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن انتخاب کے بعد وہ اس مسئلہ پر خاموش ہوگئے اور اب وہ نااہل قرار دیئے جاچکے ہیں لیکن قبرستان کا مسئلہ جوں کا توں برقرا رہے ۔جوبلی ہلز ضمنی انتخابات میں بھی حکومت کی جانب سے جوبلی ہلز کے مسلمانوں کی تدفین کے مسائل کے حل کے لئے انہیں قبرستان کی اراضی کی فراہمی کے نام پر دیئے گئے دھوکہ سے مسلمان واقف ہیں کیونکہ جوبلی ہلز میں مسلم ووٹوں کے حصول کے لئے ایرہ گڈہ قبرستان کے راستہ کی کشادگی کے نام پر کی گئی کاروائی کے بعد اس قبرستان اور قیمتی اراضی کو عدالتی رسہ کشی کا شکار بنا دیا گیا ‘ اس کے علاوہ الکا پور میں قطب شاہی مسجد سے متصل اراضی کو قبرستان کے لئے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مذکورہ اراضی جو کہ قطعی طور پر متنازعہ نہیں تھی اسے متنازعہ بنایا گیا اور دونوں معاملوں میں ہونے والی ناکامی کے بعد یوسف گوڑہ میں واقع پیلی درگاہ کی موقوفہ اراضی کو ’قبرستان‘ کے لئے مختص کرنے کے احکام جاری کرتے ہوئے یہ باور کیا گیا کہ جوبلی ہلز انتخابات میں کامیابی کے لئے کئے گئے وعدہ کو پورا کردیا گیا لیکن اس درگاہ کی اراضی پر بھی آج تک تدفین کا عمل شروع نہیں کیا جاسکا حالانکہ مذکورہ اراضی ابتداء سے ہی درگاہ کے تحت موقوفہ ہے ۔H/M/3

ڈی ناگیندر کی نااہلی ہائیکورٹ کے فیصلے پر اسپیکر جی پرساد کمار کی خاموشی
چیف منسٹر، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اور پارٹی کے دیگر سینئر قائدین سے سرگرم مشاورت
حیدرآباد ۔ 19 ستمبر (سیاست نیوز) ہائیکورٹ کی جانب سے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر کی نااہلی کے بعد تلنگانہ کا سیاسی درجہ حرارت انتہائی تیز ہوگیا ہے۔ اس مسئلہ پر جب اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار سے وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے فی الحال کوئی بھی ردعمل یا کسی بھی سوال کا جواب دینے سے صاف انکار کردیا۔ ہفتہ کو ضلع سوریہ پیٹ کے کوداڑ میں منعقدہ ایک جاب میلے کے پروگرام میں اسپیکر جی پرساد کمار نے شرکت کی۔ اس موقع پر جب وہاں موجود میڈیا کے نمائندوں نے ان سے ہائیکورٹ کے فیصلے ڈی ناگیندر کی نااہلی اور اسمبلی سکریٹریٹ کے آئندہ اقدامات سے متعلق کئے گئے سوالات پر اسپیکر نے پوری طرح خاموشی اختیار کی اور کوئی بھی سیاسی یا قانونی تبصرہ کئے بغیر آگے بڑھ گئے۔ دوسری جانب ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد جب ناگیندر سے سپریم کورٹ جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ فی الوقت سپریم کورٹ میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ اب بال اسپیکر اسمبلی کی کورٹ میں ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس معاملے میں اسپیکر اسمبلی کیا سونچ رہے ہیں وہ سپریم کورٹ جائیں گے یا نہیں اس کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ جیسے ہی ہائیکورٹ کا فیصلہ آیا وہ اس وقت اسمبلی میں تھے اور انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ چیف منسٹر نے انہیں فائیٹر قرار دیتے ہوئے مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کیلئے مقابلہ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ کئی مرتبہ انتخابات میں اپنی قسمت آزما چکے ہیں۔ وہ اپنے اسمبلی حلقہ خیرت آباد کے حامیوں اور کارکنوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ پارٹی کیڈر کی اکثریت دوبارہ مقابلہ کرنے کے حق میں ہے۔ جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے وہ مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ ڈی ناگیندر چیف منسٹر ریونت ریڈی، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ کے علاوہ پارٹی کے دیگر سینئر قائدین سے سرگرم مشاور ت کررہے ہیں۔2