مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں پسماندہ

   

ملک کے 13034 نوٹریز میں 684 مسلم نوٹریز، ایوارڈس کے معاملہ میں بھی ناانصافی
حیدرآباد ۔ 5 جنوری (سیاست نیوز) سال 2024ء کا اختتام عمل میں آیا اور نئے سال 2025ء کی آمد بھی ہوگئی ہے۔ ہم سب یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پچھلے دس برسوں سے ہی نہیں بلکہ آزادی کے بعد سے ہی اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 2011ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوںکی آبادی ملک کی آبادی کا 14 فیصد ہے۔ اگر موجودہ حالات میں آبادی کا جائزہ لیں تو دنیا کی جملہ آبادی 802 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے جس میں ہندوستان 145 کروڑ آبادی کے ساتھ سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جس کی آبادی 141 کروڑ سے زائد ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تو اس بارے میں بلاشک و شبہ یہ کہہ سکتے ہیں مسلمانوں کی آبادی 25 تا 30 کروڑ تک پہنچ گئی ہے لیکن اس قدر زیادہ آبادی کے باوجود مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں پیچھے ہیں۔ پسماندہ اور کمزور ہیں۔ مسلمانوں کی پسماندگی کا اندازہ مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی سے لگایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ہندوستان میں نوٹریز کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہیکہ 13034 نوٹریز میں صرف 684 نوٹریز مسلم ہیں۔ جب سے ہندوستان میں نوٹریز کا سسٹم رائج ہوا تب سے ملک میں نوٹریز کی تعداد 22523 رہی۔ گجرات اور تلنگانہ میں مسلم نوٹریز کی تعداد زیادہ ہے۔ گجرات میں 109 اور تلنگانہ میں 97 نوٹریز مسلمان ہیں جبکہ ہماری ریاست میں نوٹریز کی جملہ تعداد 1945 ہے۔ آسام، اوڈیشہ، جھارکھنڈ اور ہماچل پردیش میں مسلم نوٹریز نہیں ہے جبکہ امریکہ میں ہر سال 1.25 ارب سے زائد دستاویزات کی نوٹری کروائی جاتی ہے لیکن افسوس ہندوستان میں ہر سال کتنی دستاویزات کی نوٹری کروائی جاتی ہے اس کے کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار اور مختلف شعبوں میں ان کی نمائندگی سے متعلق ممتاز صحافی محمد عبدالمنان نے اپنی نئی کتاب ‘Muslims in India’ Ground Reality Versus Fake Narrative – Achievement and Accomplishments’ میں پورے دلائل کے ساتھ حقیقت آشکار کی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے گیان پتھ، ساہتیہ اکیڈیمی اور دوسرے باوقار ایوارڈس کے معاملہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ کی گئی ناانصافی پر روشنی ڈالی۔ اب تک 1285 شخصیتوں کو ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس پیش کئے گئے جن میں صرف 93 مسلمان شامل ہیں۔ 1965 سے گیان پتھ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں صرف 4 مسلم شخصیتیں ہیں۔ 1969 سے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا جارہا ہے۔ اب تک صرف 3 مسلمانوں کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔ 1952ء سے دیئے جانے والے سنگیت ناٹک اکیڈیمی ایوارڈس اب تک 73 مسلم شخصیتوں نے حاصل کئے۔ رامن مسگیسے ایوارڈ 4 مسلمان ہی حاصل کرپائے۔ 10 ہندوستانیوں کو آسکر ایوارڈ دیا گیا جن میں دو مسلمان بھی شامل ہیں۔ پڑوسی بھارت سمان ایوارڈس 31 مسلمانوں کو حاصل ہوئے۔ کسی بھی مسلمان کو اب تک TENZING NORGAY NATIONAL ADVENTURE ایوارڈ نہیں مل سکا۔ چند مسلم شخصیتیں ہی ایس ایس بھٹناگر پرائز فار سائس اینڈ ٹکنالوجی حاصل کرپائی۔ 12 مسلم بچوں کو سنجے چوپڑا اینڈ گپتا چوپڑا ایوارڈس دیئے گئے۔