گستاخی رسول کی سزا حکومت وقت کی ذمہ داری
شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد ۔11 جون (پریس نوٹ) اللہ رب العزت نے جب سے زمین پر انسان کو بھیجا ہے، تب سے ہی انسانوں کے دشمن شیطان کو بھی بھیجا ہے۔ انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس فطرت میں اللہ کو ایک ماننا شامل ہے۔ جب کہ ابلیس کا کام انسانیت سے دشمنی ہے۔ شیطان انسان کو بار بار گناہ پر اکساتا ہے۔ زنا ہر حال میں جرم ہے۔ چاہے اسے رضامندی یا غیر رضامندی کچھ بھی کہا جائے، لیکن نتائج اور بد فعلی کی وجہ سے حرام ہے اور جو اس جرم کا مرتکب ہے، وہ سزا کا مستحق ہے۔ گناہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کی نگاہ سے گر جاتا ہے۔ اللہ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ زمین پر سب سے بڑا اور اللہ کو ناراض کرنا والا گناہ انبیا کی شان میں گستاخی اور بدزبانی ہے۔ ہر گناہ کا عذاب متعلقہ شخص کو دیا جاتا ہے۔ جب کہ انبیا کی شان میں گستاخی برداشت کرنے والی قومیں تباہ کردی جاتی ہے۔ انبیا کی توہین کی وجہ سے اللہ نے تاریخ میں پوری کی پوری قوم کو برباد کردیا تھا۔ یہ نہایت ہی سنگین جرم ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے شاہی مسجد باغ عامہ میں کیا ہے۔ مولانا احسن نے فرمایا کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں یعنی انبیا کے بارے میں غیر محتاط انداز میں گفتگو کرنے سے رب تعالی سخت ناراض ہوجاتے ہیں۔ ہر دور میں بے ادبی اور گستاخی کرنے والوں کا دردناک انجام ہوا۔ اگر گستاخی رسول کو اس کے انجام تک نہ پہنچایا جائے تو اس کا اثر پوری کائنات پر پڑتا ہے۔ مولانا احسن نے فرمایا کہ ہمیں مسلکی اعتبار سے بھی متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ ایک ہی عمل کو مختلف مسالک اپنے مکتبہ فکر کے انداز میں عمل کررہے ہیں تو ہمیں دونوں سے محبت کرنا چاہیے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے سلسلے میں اسلام عدم برداشت کی پالیسی رکھتا ہے۔ اہانت رسولﷺ کے سلسلے میں اسلام اپنوں اور غیروں دونوں کے بارے میں نہایت ہی حسیاسیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پیغمبر انسانیت حضرت محمد ﷺ کی ذات کے بارے میں ذرہ بھی طنز، تنقید اور تذلیل برداشت نہیں کی جاسکتی۔ محبت اور عشق رسول مسلمانوں کے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ ہمارے کلمے کے دو جز ’لا الہ اللہ‘ کے ساتھ ہی ’محمد رسول اللہ‘ کا اقرار بھی ضروری ہے۔ اہانت رسول کے سلسلے میں کسی بھی طرح کا کوئی تحمل نہیں۔ اس ضمن میں اسلام ’زیرو ٹالیرنس‘ کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم قانون کو ہاتھ میں لیں اور لوگوں پر پتھر برسائیں۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی عوامی جگہوں کو نقصان پہنچاتا ہے، تو وہ بھی اس جرم کا مرتکب ہوگا۔ ہم کسی کو نقصان پہنچانے والی قوم نہیں ہے۔ ہمارا صحیح احتجاج یہ ہوگا کہ ہم یہ منصوبہ بنائیں کہ آئندہ دو سال تک ہم اتنے برادران وطن کو سیرت سے آشنا کرائیں گے۔ ہم ایک منصوبہ بنائیں کہ ہم اپنے اپنے محلے کے برادران اور غیر مسلم تک حضور کی تعلیمات کو عام کریں۔ اسے اپنی زندگی کا مشن بنائیں۔سوشل میڈیا کو مثبت طور پر استعمال کیا جائے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے متعلق ہیش ٹیگ چلائیں۔