اسمبلی اور قانون ساز کونسل میںبھی مسلم نمائندگی میں کمی کے اندیشے !
حیدرآباد20جنوری(سیاست نیوز) مسلم تحفظات میں تخفیف اور مسلم مسائل پر اقلیتی نمائندوں کی خاموشی کا خمیازہ اب قانون ساز اسمبلی و کونسل میں موجود مسلم نمائندوں کو بھگتنا پڑیگا۔ماہ مارچ میں کونسل میں مسلم نمائندگی میں کمی کے اندیشے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ بی آر ایس کے موجودہ دو مسلم ارکان کونسل میں ایک کی رکنیت معیاد کے اختتام کے بعد اس میں توسیع نہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ پارٹی کا منتخب مسلم رکن اسمبلی ایک ہی ہے ۔تلنگانہ میں مارچ میں ختم ہونے جارہی ارکان کونسل کی معیاد کے اختتام کے بعد پارٹی ایم ایل سی کی توسیع کے بجائے کسی اور طبقہ کے فرد کو امیدوار بناسکتی ہے ۔ !گورنر کوٹہ کے رکن کونسل جناب محمد فاروق حسین کی معیاد میں توسیع کے امکانات موہوم ہیں۔سابق میں گورنر ڈاکٹر ٹی سوندراراجن نے گورنر کوٹہ میں ریاستی کابینہ کی جانب سے کوشک ریڈی کے نام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جبکہ کوشک ریڈی کے نام کو حکومت نے منظوری دے کر اعلامیہ کی اجرائی کیلئے گورنر کو روانہ کیا تھا ۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے انقلابی گلوکار جی وینکنا کو گورنر کوٹہ میں رکن کونسل نامزد کیا گیا جسے گورنر نے منظوری دے دی۔ کوشک ریڈی کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دوسرے زمرہ میں رکن کونسل بنادیا تھا اور اب گورنرکوٹہ کے رکن جناب محمد فاروق حسین کی معیاد ماہ مارچ میں ختم ہو رہی ہے اور ان کی توسیع گورنر کوٹہ میں ہونے کے آثار موہوم ہونے لگے ہیں کیونکہ ان کی توسیع کے متعلق گورنر ان کے سیاسی قائد ہونے پر اعتراض کریں تو حکومت کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوگی اور یہ تاثر دیا جائے گا کہ بی آر ایس نے مسلم امیدوار تو بنایا تھا لیکن گورنر نے توسیع نہیں کی ہے اسی لئے پارٹی پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا ۔ پاری مارچ میں معیاد مکمل کرنے والے 7 ارکان کونسل میں اگر مسلم قائد کو امیدوار کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے تو ارکان اسمبلی کے کوٹہ میں منتخب ارکان کونسل کی تین نشستیں خالی ہورہی ہیں جن میں اے کرشنا ریڈی ‘ وی گنگادھر گوڑ اور کے نوین کمار شامل ہیں اگر اس زمرہ میں بی آر ایس سے مسلم امیدوار کو پیش کیا جاتا ہے تو مسلم رکن کونسل کی تعداد میں کمی نہیں ہوگی ۔ سابق میں مرحوم رکن جناب محمد فرید الدین کو ارکان اسمبلی کے کوٹہ میں منتخب کروایا گیا تھا لیکن ان کی معیاد کی تکمیل کے بعد کوئی توسیع نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ جناب سید امین الحسن جعفری حیدرآباد ادارہ جات مقامی ‘ کے جناردھن ریڈی رکن کونسل حلقہ اساتذہ حیدرآباد۔رنگاریڈی اور محبوب نگر کی معیاد بھی مکمل ہورہی ہے۔ریاست میں مسلم نمائندگی میں بتدریج کمی پر خاموشی اور مسلم نمائندوں کی جانب سے خاموشی کے سبب برسراقتدار جماعت کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ مسلم نمائندوں کو بھی نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کئے جانے کا امکان ہے ۔ مسلم سیاسی ‘ سماجی ‘ مذہبی قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ برسراقتدار جماعت پر مسلم مسائل کے حل اور مسلم نمائندگی میں کمی کے خدشات سے واقف کرواتے ہوئے تیقن حاصل کریں کہ کونسل میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کیا جائے گا۔ تقسیم ریاست کے بعد کونسل میں 5مسلم ارکان تھے جن میں تلگو دیشم سے جناب محمد سلیم ‘ مجلس سے جناب سید الطاف حیدررضوی ‘ کانگریس سے جناب محمد علی شبیر اور جناب محمد فاروق حسین کے علاوہ تلنگانہ راشٹر سمیتی سے جناب محمد محمود علی تھے ۔ جناب محمد سلیم اور محمد فاروق حسین کی تلنگانہ راشٹرسمیتی میں شمولیت کے بعد ٹی آر ایس کے مسلم ارکان کی تعداد 3ہوگئی تھی ۔ گذشتہ کونسل میں بھی جناب محمد فرید الدین کی موجودگی کے سبب یہ تعداد تین رہی لیکن بی آر ایس نے جناب محمد سلیم اور جناب محمد فرید الدین کی معیاد میں توسیع نہیں کی جس کے نتیجہ میں اب یہ تعداد محض دو ہوچکی ہے اور مجلس کے دو ارکان ہیں۔ حکومت اگر مارچ میں ہونے والے کونسل انتخاب میں مسلمانوں سے انصاف کرتی ہے تو مزید دو ارکان کے انتخاب یا نامزدگی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔م