مسلم فریق کی سماعت کے بغیر احکامات پر اعتراض : اسد اویسی

   

گیان واپی مسجد معاملہ کی سپریم کورٹ میں /19 مئی کی سماعت سے آئین کو یقینی بنانے کی امید

حیدرآباد۔17۔مئی ۔(سیاست نیوز) ملک آئین اور دستور کے مطابق چلے گا کسی کے عقیدہ کے مطابق ملک کو نہیں چلایا جاسکتا۔سپریم کورٹ سے امید ہے کہ وہ آئندہ سماعت کے دوران گیان واپی مسجد کے معاملہ میں عبادت خانوں سے متعلق ایکٹ 1991 کے تحفظ کے سلسلہ میں احکام جاری کرے گی۔ صدر مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملک کے دستور اور آئین پر مکمل اعتماد ہے لیکن عدالت کے فیصلہ پر اعتراض کرنا بھی ہمارا دستوری حق ہے۔انہو ںنے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیئے جانے والے احکامات سے کچھ مایوسی ضرور ہوئی ہے لیکن یہ تادیر قائم نہیں رہی بلکہ 19 مئی کی سماعت میں انہیں توقع ہے کہ سپریم کورٹ آئین کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ جس طرح سے تحت کی عدالت کاروائی کر رہی ہے اس سے ان کے خدشات کو مزید تقویت پہنچ رہی ہے کہ گیان واپی مسجد معاملہ کو بھی بابری مسجد کے طرز پر لے جا یا جارہا ہے۔ انہوں نے تحت کی عدالت کی جانب سے مسلم فریق کے ادعا کی سماعت کے بغیر جاری کئے جانے والے احکامات پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے غیر قانونی احکامات پر روک لگائے ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آچاریہ پرمود متالک کے بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو جواب دینا چاہئے کہ آیا پرمود متالک کا بیان ان کی پارٹی کا موقف ہے ! صدر مجلس نے گیان واپی مسجد کے معاملہ میں پیدا شدہ حالات کے لئے آر ایس ایس اور بی جے پی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں منافرت پھیلانے کی گہری سازش کر رہے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عاملہ کے اجلاس میں گیان واپی کے علاوہ دیگر مساجد کے متعلق جس طرح کا پروپگنڈہ کیاجا رہاہے اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور امید ہے کہ اس اجلاس کے ذریعہ کوئی مثبت پہلو نکل کر سامنے آئے گا۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ بابری مسجد معاملہ میں جو فیصلہ کیاگیا ہے اس میں واضح ہدایات موجود ہیںان پر عمل آوری کی جانی چاہئے علاوہ ازیں عباد ت گاہوں کے مقامات کے متعلق قانون کی پاسداری کی جانی چاہئے ۔انہوں نے سروے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اورماہ مارچ کے دوران گیان واپی مسجد کے احاطہ میں مورتیوں کو دفن کرنے کے لئے گڑھا کھودا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحت کی عدالت کے احکامات پر حکم التواء جاری کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔م