خانگی سود خور سرگرم اور رہین سنٹرس کی بھی بھرمار ‘ لون ایپ سے سنگین مسائل
مسلمانوں کی اکثریت لعنت کا شکار ۔ سود کو برائی سمجھنے کا تصور ہی ختم ہوگیا
تجارتی اور کاروباری ضرورت کا نام دیا جا رہا ہے ۔ برکتیںختم ہوگئیں
مسلم معاشرہ میں شعور بیداری اور متبادل انتظام وقت کی اہم ضرورت
سید خلیل قادری
حیدرآباد 26 اپریل ( سیاست نیوز ) اسلام ایک دین فطرت ہے ۔ اس نے زندگی کے ہر شعبہ کے تعلق سے انسانوں کی رہنمائی کی ہوئی ہے ۔ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہ ایک انتہائی بدترین گناہ ہے اور اس کے لینے اور دینے والے دونوں ہی کو برابر کا گناہ گار قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود آج انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ سود کی لعنت کا شکار ہوکر اپنی زندگیوں سے سکون گنوا بیٹھا ہے ۔ زندگی کی خیر و برکت کو سود کی لعنت نے ختم کردیا ہے ۔ صبح سے شام تک محنت کرنے کے باوجود مسلمانوں کی کمائی میں برکت نہیں رہ گئی ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس لعنت کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ مسلمانوں کے محلوں میں یہ انتہائی گھناونا اور حرام کاروبار پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے ۔ کہیں خانگی سود خود چلتے پھرتے یہ کاروبار کرتے ہیں اور غریب عوام کا خون چوستے ہیں تو کہیں ہر چند قدم پر موجود رہین سنٹرس کے ذریعہ یہ کاروبار جاری ہے ۔ ویسے تو مسلمانوں میں یہ لعنت بہت عرصہ پہلے سرائیت کر گئی تھی اور خود کو مسلمان کہنے والے سود کے کاروبار کو پوری شان سے چلا رہے تھے ۔ سود کی لعنت اب نت نئی اشکال کے ساتھ سماج
میںسرائیت کرگئی ہے اور افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ اس کو اب ایک طرح سے لعنت یا برائی سمجھا ہی نہیں جا رہا ہے ۔ اب یہ لعنت بدلتے دور کے ساتھ ہائی ٹیک بھی ہوگئی ہے اور اب لون ایپ نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے ۔ سود کے لین دین سے زندگیوں کا سکون ہی نہیں اب تو زندگیاں ہی داو پر لگ رہی ہیں اور ہراسانی سے تنگ آکر لوگ خودکشی تک کرنے لگے ہیں۔ آج کے دور میں ہر ایک کے ہاتھ میں فون اور انٹرنیٹ دستیاب ہے ۔ آپ کے موبائیل پر پیامات بھیجتے ہوئے لون ایپ کے ذریعہ راغب کیا جاتا ہے اور پھر اگر کوئی وقتی ضرورت کیلئے یا تجرباتی طور پر اس لون ایپ کا شکار ہو کر کچھ قرض حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کی ہراسانی کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے اور دراز ہوتا چلا جاتا ہے ۔ ابتداء میں صرف خانگی سود خوروں کی سرگرمیوں سے معاشرہ پریشان تھا تو رہین سنٹرس کی بڑھتی تعداد نے بھی اس کو مزید بڑھاوا دیا تھا ۔ خانگی سود خور 20 سے 40 فیصد تک سود حاصل کرکے غریبوں کا خون چوستے ہیں اور خود عیش و عشرت کی زندگی جیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حرام سے کمائی کرتے ہیں اور اس کمائی کو اڑاتے بھی حرام کاموں ہی میں ہیں۔ آج بھی سود کا کاروبار کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے ۔ آج بھی خانگی سود خور مختلف ناموں سے اپنے ’ دھندے ‘ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کہیں منافع کے نام پر تو کہیں ’ انویسٹمنٹ ‘ کے نام پر ۔ غریب مسلمان ضرورت کے وقت حرام و حلال کا خیال کئے بغیر سود کی رقم حاصل کرلیتے ہیں اور پھر اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر ان سود خوروں کے تقاضے پورے کرتے چلے جاتے ہیں۔ اب خانگی سود خوروں اور رہین سنٹرس کے ساتھ لون ایپ نے بھی لوٹ مار شروع کردی ہے ۔ ابتداء میں تو بڑے اچھے الفاظ میں جھانسے دے کر قرض دیا جاتا ہے ۔ جب کوئی یہ قرض بروقت ادا نہیں کرتا ہے تو اس کے رشتہ داروں اور دوست احباب کو فون یا مسیج کرکے اس کو ذلیل و رسواء کیا جاتا ہے ۔ کچھ لون ایپس نے تو عریاں ویڈیو اور تصاویر بناتے ہوئے ہراسانی کی ہے جس سے تنگ آ کر کچھ افراد نے خود کشی جیسا انتہائی اقدام تک کرلیا ہے ۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ لعنت مسلم معاشرہ میں بھی انتہائی حدوں تک سرائیت کرگئی ہے ۔ اس لعنت کا شکار جو لوگ ہیں ان کی اکثریت ایسی ہے جو اس کو برائی تک نہیں سمجھتی بلکہ اسے کاروباری یا تجارتی لین دین سمجھا جا رہا ہے ۔ سود نے جہاں زندگیوں کا سکون برباد کردیا ہے وہیں کئی گھر اجاڑ دئے ہیں اور کئی زندگیاں ضائع ہوگئی ہیں۔ آج مسلم معاشرہ جن بے شمار مسائل کا شکار ہے ان میں ایک بڑی وجہ سود کا چلن بھی ہے جو بہت عام ہوگیا ہے اور اس سے معاشرہ کو اور خاص طور پر مسلم معاشرہ کو نجات دلانے کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کی صفوں میں بلا سودی لین دین کا کوئی ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کام کیلئے آگے آنے تیار ہے ۔ سب سے پہلے تو مسلمانوں میں سود کی لعنت کے تعلق سے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسلام میں سود کی جو ممانعت آئی ہے اس کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ اسلام نے سود کو جتنا بڑا گناہ قرار دیا ہے اس تعلق سے عوام کو واقف کروایا جانا چاہئے ۔ سود کی لعنت سے جو برکتیں ختم ہوتی ہیں اس کو سمجھانے کی ضرورت ہے اور سماج کے ذمہ دار طبقہ کو خاموشی سے اس سب کو برداشت کرتے رہنا بھی خود ایک گناہ سے کم نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مذہبی اداروں اور تنظیموں اور مذہبی قائدین کے ساتھ سماج سدھار کی تنظیموں کو بھی حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ معاشرہ میں مسلسل بڑھتی اس لعنت پر خاموشی اس لعنت کو بڑھاوا دینے کے مترادف بھی کہی جاسکتی ہے ۔ اسلام نے جہاں سود کو حرام قرار دیا ہے وہیں ہمیں یہ بھی حکم ہے کہ جہاں برائی دیکھو اپنی استطاعت کے مطابق اس کو روکنے کی کوشش بھی کرو۔ ہمیں اس کیلئے عملی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔