بھوپال : ملک میں جب جب انتخابات آتے ہیں تووقتی طور پرنمائندگی کے لئے تحریک شروع ہو جاتی ہے ۔بیدار قومیں ہر شعبہ میں نمائندگی کے لئے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہریاستی دارالحکومت سے لے کر قومی دارالحکومت تک،سڑک سے سنسد تک ایک کر دیتی ہیں اور اپنی جائز مانگ کو ہر عام و خاص تک پہنچا تی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہہوتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو ان ذات برادری اور مذہب کے لوگوں کو نمائندگی دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے لیکن پسماندہ برادری اوربہوجن مسلم سماج کا معاملہ ان بیدار قوموں سے ذرا مختلف ہے ۔اپنے لوگوں کی اپنے بیچ پگڑیاں اچھالنے ، قوم کی خستہ حالی پر دعوتیں اُڑانے ، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور کوسنے اور ایک دوسرے کے خلاف فتویٰ دینے میں تو یہ بہت مستعد اور جلد بازی کا مظاہر کرتی ہیں لیکن سیاست کی اسمبلی اور ایوان تک اپنی آواز بلند کرنے کی جب بات آتی ہے تو انہیں مُلّا ملایم پر تو کبھی بہن مایاوتی جی، تو کبھی بیرسٹر اسد الدین اویسی جی پر تو کبھی ایسے قائد جو کبھی پسماندہ کا قائد نہ ہوکر پارٹی کا قائد یا درباری کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، اس پر یقین اور پورا اعتماد ہوتا ہے لیکن اپنی قیادت ہمیشہ مشکوک نظر آتی ہے ۔اسی لئے سیاسی پارٹیاں بھی انہیں حاشیہ پر رکھنے میں اپنی شان سمجھتی ہیں اور ان کے منتشر ہونے سے خوب فائدہ اُٹھاتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار یہاں جاری ایک پریس ریلیزآئی پی ایس اورریٹائرڈ ڈی جی ایم ڈبلیو انصاری نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کیا۔