ووٹر شناختی کارڈ ، آدھار ، پیان اور بینک اکاؤنٹ ہندوستانی شہریت کا ثبوت نہیں

   

کلکتہ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ، ڈیٹینشن سنٹر کے محروس کے خلاف کارروائی میں مداخلت سے انکار

حیدرآباد ۔29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) کلکتہ ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ ووٹر شناختی کارڈ ، آدھار کارڈ ، پیان کارڈ اور بینک اکاؤنٹ ہندوستانی شہریت کے ثبوت کے طور پر قبول نہیں کئے جاسکتے۔ عدالت نے کہا کہ مذکورہ دستاویزات کسی بھی شخص کی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ ہائی کورٹ نے مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے خلاف حکام کی کارروائی میں مداخلت سے انکار کردیا۔ حکام نے اس شخص کو ہندوستان میں غیر قانونی طور پر قیام کرنے والے بنگلہ دیشی شہری کے طور پر شناخت کرتے ہوئے ڈیٹینشن سنٹر بھیج دیا۔ جسٹس ڈی باسک اور جسٹس محمد شبر راشدی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ شہریت کو ثابت کرنا افراد کی ذمہ داری ہے ۔ حکام کی جانب سے بارہا موقع دیئے جانے کے باوجود محروس اور اس کے رشتہ دار خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی شہریت کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا۔ عدالت نے محروس افراد کے بیانات میں یکسانیت نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ جن افراد سے محروس شخص نے اپنی رشتہ داری ظاہر کرنے کی کوشش کی، اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیا جاسکا۔ عدالت نے محروس شخص کے رشتہ دار کے وکیل کو اجازت دی کہ وہ محروس سے ملاقات کریں اور اس کی والدہ کی قبر کی نشاندہی حاصل کریں۔ محروس شخص نے کہا کہ اس کے والدین فوت ہوچکے ہیں لیکن وہ تدفین کے مقام کی نشاندہی نہیں کرسکا۔ عدالت نے کہا کہ اگر قبروں کی نشاندہی کی جاتی تو ڈی این اے ٹسٹ کے ذریعہ رشتہ داری کا تعین کیا جاسکتا تھا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حراست کے دوران مذکورہ شخص نے بنگلہ دیشی شہری ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان میں داخل ہوا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ووٹر شناختی کارڈ ، آدھار کارڈ ، پیان کارڈ اور بینک پاس بک مخصوص کاموں کیلئے بطور شناخت قابل قبول ہیں لیکن ہندوستانی شہری ثابت کرنے کیلئے بنیادی دستاویز کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ حالیہ ایس آئی آر مہم کے دوران محروس شخص کا نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کردیا گیا۔1/k