معاشی دیوالیہ کے بعد سری لنکا میں پہلے صدارتی انتخابات

   

کولمبو : موجودہ صدر وکرما سنگھے کو سخت اقتصادی اقدامات کے نفاز کی وجہ سے اپنا عہدہ براقرار رکھنے میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹروں کی بڑی تعداد ملکی طرز حکمرانی سے مایوس ہے۔ معاشی بحران کے شکار سری لنکا میں آج اکیس ستمبر بروز ہفتہ ملک کے اگلے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ اس الیکشن کو ملک کے بے مثال مالیاتی بحران کے بعد نافذ کیے گئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کفایت شعاری کے ایک غیر مقبول منصوبے پر ریفرنڈم کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ صدر رانیل وکرما سنگھے اپنے غیر مقبول اقدامات کو جاری رکھنے کی خاطر نئے مینڈیٹ کے لیے ایک مشکل جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان اقدامات نے ملکی معیشت کو مستحکم کیا اور مہینوں تک جاری رہنے والی خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت کو ختم کیا۔ وکرما سنگھے نے اپنے دو سالہ دور اقتدار میں اس معاشی بدحالی اور بد امنی پر قابو پایا، جو 2022 میں ان کے پیشرو صدر کے ملک سے فرار کی وجہ بنی تھی۔ 75 سالہ وکرما سنگھے نے ہفتہ کی صبح اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ میں نے اس ملک کو دیوالیہ پن سے نکالا ہے، اب میں سری لنکا کو ایک ترقی یافتہ معیشت، ترقی یافتہ سماجی نظام اور ترقی یافتہ سیاسی نظام فراہم کروں گا لیکن 2.9 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف بیل کی شرائط پوری کرنے کی خاطر وکرما سنگھے کے ٹیکسوں میں اضافہ اور دیگر اقدامات نے لاکھوں افراد کومعاشی لحاظ سے جدوجہد کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔