سکندرآباد اسٹیشن سرفہرست۔ ریلوے کی مفت سہولت کا ضرورت سے زیادہ بیجا استعمال
حیدرآباد6 جون ۔ (سیاست نیوز) ملک میں عصمت ریزی واقعات ‘ جنسی بے راہ روی و عوامی مقامات پر لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کیلئے انٹرنیٹ ذمہ دار ہے یا انٹرنیٹ ایک ایسی سہولت ہے جو شہریوں کو باخبر اور چوکس رہنے اور معلومات کے حصول کا ذریعہ ہے! سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر مفت وائی فائی کے استعمال کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوگا کہ انٹرنیٹ کا استعمال فحش فلموں کے مشاہدہ کیلئے ہورہا ہے ۔ ریلوے اسٹیشن پر اسہولت کے استعمال کنندگان میں 35 فیصد مسافرین یا استفادہ کنندگان مفت انٹرنیٹ کے ذریعہ فحش فلمیں ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں ۔ریلوے کے سکندرآباد ڈیویژن میں سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر ٹرینوں کے انتظار میں موجود مسافرین مفت وائی فائی کا استعمال کرکے فحش فلمیں ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔اسی طرح کی صورتحال حیدرآباد‘ جئے واڑہ اور تروپتی ریلوے اسٹیشن کی بھی ہیں جہاں فحش فلموں کو ڈاؤن لوڈ کرنے انٹرنیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ریلوے اسٹیشنوں پر وائی فائی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی ریل ٹیل عہدیدارو ںکے مطابق اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی سہولت ابتدائی 30 منٹ مفت ہوتی ہے اور اس سہولت کے دوران350 میگا بائٹ ڈاٹا استعمال کیا جاتا ہے جس میں 90 فیصد فحش فلموں کو ڈاؤن لوڈ کرنے استعمال کیا جاتا ہے۔عہدیداروں کے مطابق فحش فلموں کی بیشتر ویب سائٹس پر ملک میں امتناع ہے لیکن VPN اور دیگر ذرائع کا استعمال کرکے بعض ویب سائٹس اب بھی کارکرد ہیں جنہیں بند کرنے کے بعد ہی اسے روکا جاسکتا ہے۔ریل ٹیل کے مطابق یومیہ صارفین کی تعداد 12لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے ۔ ملک کے 1600 سے زائد اسٹیشنوں میں سب سے زیادہ صارفین سکندرآباد اسٹیشن پر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق فحش ویڈیو کے علاوہ دوسرے نمبر پر یوٹیوب ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 30منٹ مفت وائی فائی خدمات میں صارفین طویل فحش فلموںکے علاوہ ایپلیکیشن اور یوٹیوب فلموں کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تاکہ دوران سفر اسے تفریح کے طور پر استعمال کیا جاسکے ۔ سکندرآباد ڈویژن میں سب سے زیادہ فحش مواد ڈاؤن لوڈ کرنے کی وجوہات پر حکام نے بتایا کہ انٹرنیٹ کا استعمال بھی سب سے زیادہ سکندرآباد ڈویژن میں میں ہورہا ہے تو یہ کہنا دشوار ہے کہ دیگر مقامات پر فحش مواد ڈاؤن لوڈ کرنے انٹرنیٹ کا کتنا استعمال کیا جا رہاہے کیونکہ ڈاٹا کی مکمل تفصیلات کا حصول ہر ریلوے ڈویژن سے کیا جاتا ہے۔م