ملت فنڈ کی جانب سے ایک ہی دن میں 16 مسلم نعشوں کی تدفین

   

حیدرآباد 8 اکٹوبر ( راست ) جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر سیاست کو پولیس اسٹیشن شمس آباد سے محمد جبار ایس آئی کا مراسلہ ملا ، جس میں مسلم خاتون مسرت بیگم ولد محمد ابراہیم کی تدفین کی درخواست کی گئی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں سے مزید 15 نعشوں کی تدفین کی درخواست کی گئی۔ جملہ 16 نعشوں کو حاصل کرکے سکندرآباد قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔ مسرت بیگم شمس آباد پی ایس حدود میں روڈ کراس کررہی تھی کہ بس کی ٹکر سے وہ مقام واقعہ پر ہی جانبر نہ ہوسکی اور مرحومہ کے والد محمد ابراہیم جناب زاہد علی خان سے رجوع ہوئے اور مالی مسائل کی وجہ وہ تدفین سے مجبوری ظاہر کی اور آپ ہی کی ہدایت پر نعش حاصل کرکے تدفین عمل میں لائی گئی۔ جملہ 16 جنازوں کی نماز دواخانہ عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹل میں ادا کی گئی۔ دواخانہ عثمانیہ میں مولانا زعیم الدین حسامی، معتمد سراج العلماء اکیڈیمی نے پڑھائی جبکہ سید زاہد حسین شاہ قادری نے گاندھی ہاسپٹل میں پڑھائی۔ مولانا سید حفیظ اشرفی امام و خطیب جامع مسجد محمدیہ کشن باغ نے دعا کی جبکہ نماز جنازہ میں مولانا سید معزالدین اشرفی خلیفہ علامہ مدنی میاں اشرفی الجیلانی کے علاوہ سید امیرالدین، محمد لئیق، شیخ عبدالمکرم، محمد عنایت، سید زبیر ہاشمی موجود تھے۔ حافظ و قاری محمد تجمل حسین، سید عبدالمنان، محمد عبدالجلیل، سید صابر علی نے ملت فنڈ کے معاونین کیلئے دعا کی جبکہ بشریٰ تبسم نے جناب زاہد علی خاں کیلئے دعا کی ۔