علاقہ میں کشیدگی ۔ مقامی مسلمانوں کا احتجاج ۔ آج مختلف محکمہ جات کا سروے ہوگا ۔ مقدمہ کے اندراج سے گریز
حیدرآباد۔/16 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) شہر کے مضافات میں ملکم چیرو کے قریب واقع قطب شاہی مسجد کی حصار کو توڑ کر شرپسند عناصر نے وہاں پوجا پاٹ کی اور مورتی نصب کردی۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی اور کچھ ہی دیر میں سینکڑوں عوام وہاں پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح 10:30 بجے 100 تا 150 افراد پر مشتمل شرپسند عناصر کے ایک گروپ نے جس میں خواتین بھی شامل تھیں قدیم مسجد قطب شاہی کی حصار کو توڑ کر اندر داخل ہوئے اور پوجا پاٹ شروع کردی۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک مورتی بھی نصب کردی گئی۔ اس حرکت کو دیکھ کر مسجد کمیٹی ارکان نے مقامی پولیس اور تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو آگاہ کیا اور کچھ ہی دیر میں رائے درگم پولیس وہاں پہنچ گئی اور دونوں گروپس کے تصادم کو روک دیا۔ دریں اثناء مسجد کے حصار کو توڑ کر شرپسند عناصر اندر داخل ہونے کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے نتیجہ میں مقامی و اطراف واکناف علاقوں کے مسلمانوں نے وہاں پہنچ کر اس حرکت کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا جبکہ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کی اسپیشل ٹاسک فورس کے عہدیدار بھی وہاں پہنچ گئے۔ مسجد کے صدر امان اللہ خان نے بتایا کہ مسجد قطب شاہی کی اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اس اراضی پر کبھی بھی مندر کا وجود نہیں تھا جبکہ اس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وقف بورڈ کے حکام نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ قطب شاہی مسجد سروے نمبر 82 ملکم چیرو میں واقع ہے اور مسجد کی اراضی کی حد بندی کیلئے محکمہ مال، جی ایچ ایم سی کی مدد حاصل کی جارہی ہے ۔ پیر کو مذکورہ محکمہ جات کا مشترکہ سروے ہوگا۔ اس سلسلہ میں ربط پیدا کرنے پر انسپکٹر رائے درگم پولیس نے کہا کہ وقف بورڈ حکام کی جانب سے مسجد کی حصار توڑ کر جبراً داخل ہونے کی ایک تحریری شکایت وصول ہوئی ہے لیکن پیر کو مختلف محکمہ جات بشمول جی ایچ ایم سی اور محکمہ مال کی جانب سے حد بندی کی توثیق کے بعد ہی اس درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے گروپ نے بھی مسجد کے قریب واقع اراضی کا ایک حصہ مندر کیلئے حکومت کی جانب سے مختص کئے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس اُلجھن کو دور کرنے ضلع کلکٹر رنگاریڈی سے ربط پیدا کیا گیا ہے اور ان کی رپورٹ کے بعد مزید پیشرفت کی جائے گی۔ حالات کو کشیدہ ہوتا دیکھ کر رائے درگم پولیس نے وہاں ایک پولیس پکیٹ بھی تعینات کردیا ہے اور اعلیٰ پولیس عہدیداروں نے دونوں فریقین کو مذہبی مقام پر جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔مسجد کے مصلیان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روڈ کی توسیع کے پیش نظر مسجد کے قریب واقع ایک مندر کو اس اراضی پر منتقل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ب