ملک ، آزادی اور حقوق کا تحفظ صرف تعلیم سے ممکن،فیض عام ٹرسٹ کا یوم جشن آزادی ، جناب افتخار حسین اور دیگر کا خطاب

   

حیدرآباد ۔ 15 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ہمارے عظیم ملک ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے میں ہندو مسلم سکھ عیسائی تمام کے تمام نے اہم کردار ادا کیا ۔ جان و مال کی قربانیاں پیش کیں ۔ مجاہدین آزادی کی ان قربانیوں کے نتیجہ میں ہی آج ہندوستان نہ صرف آزاد ملک ہے بلکہ اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ آزادی کے بعد ملک میں زرعی انقلاب برپا کیا گیا ، صنعتی انقلاب کے ذریعہ ملک اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے سامان فراہم کئے گئے ، سفید انقلاب ( ڈیری ڈیولپمنٹ ) کے ذریعہ گاوں گاوں خوشحالی لائی گئی ، تعلیمی انقلاب برپا کرتے ہوئے دنیا بھر میں ہندوستان کی عظمت کا سکہ بٹھایا گیا اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے انقلاب کے ذریعہ ہندوستان کو سافٹ ویر میں چنندہ ملکوں کی صف میں شامل کرایا گیا ۔ ایسے میں اب ہم تمام ہندوستانیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی آزادی کی حفاظت کریں ۔ جنہیں اب انگریزوں سے نہیں فرقہ پرستوں اور جہالت سے خطرہ لاحق ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے 75 ویں جشن آزادی کی مسرت میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب میں کیا ۔ جس کی صدارت جناب رضوان حیدر ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ نے کی جب کہ محترمہ یاسمین احمد مشیر فیض عام ٹرسٹ نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی ۔ اس پر مسرت موقع پر جناب سید حیدر علی رکن مجلس عاملہ ، ارکان عملہ ، اسٹارس آف فیض عام ٹرسٹ اور اولیائے طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ جناب افتخار حسین نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج اپنے عظیم ملک کی آزادی کے تحفظ کے لیے قوم کے بچہ بچہ کا تعلیم حاصل کرنا نوجوانوں کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے ۔ کیوں کہ ہم تعلیم کے ذریعہ آزادی کے ثمرات سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔ جناب رضوان حیدر نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ 136 کروڑ نفوس پر مشتمل ہمارے ملک نے جس کے دامن میں کئی مذاہب کے ماننے والوں بے شمار زبانوں و بولیوں کے بولنے والے مختلف تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والے پائے جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود یہاں کثرت میں وحدت اور تنوع کا دور دورہ ہے ۔ محترمہ یاسمین احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ فیض عام ٹرسٹ نونہالان ملت کو زیور علم سے آراستہ کرنے معاشرہ میں علم کی شمع روشن کئے ہوئے ہے ۔ جس کے باعث ہزاروں کی تعداد میں مستحق طلباء وطالبات معذورین ، بیواؤں ، بے چاروں ، کمزوروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ یاسمین احمد نے خاص طور پر خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کریں کیوں کہ ماں کی گود ہی ہر بچہ کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے ۔ جناب سید حیدر علی نے اپنی تقریر میں ان طلباء و طالبات کو مبارکباد دی جو فیض عام ٹرسٹ کی مالی مدد سے اپنا تعلیمی سفر کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور فیض عام ٹرسٹ ایسے ہونہار بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس کے قابل قدر عطیہ دہندگان کے باعث ممکن ہورہا ہے ۔ تقریب میں فیض عام ٹرسٹ کے ستاروں ، اسٹارس آف فیض عام کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ اب تک 50 طلباء وطالبات کو یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ اس مرتبہ بھی ثانیہ بیگم 96 فیصد مارکس بی پی سی ، سیدہ سمیہ فاطمہ ایم پی ایچ ڈبلیو 96 فیصد مارکس ، ثانیہ بیگم ایم بی ایچ ڈبلیو 94 فیصد مارکس ، محمد فرحان 98 فیصد مارکس ایم پی سی ، زیبا بصرین 98 فیصد ایم بی سی ، نمرہ فاطمہ 89 فیصد نمبرات ایم بی ایچ ڈبلیو ، عائشہ عشرت 78 فیصد نشانات سی ای سی ، شاذیہ فردوس 94 فیصد ایم ای سی ، سکینہ فاطمہ کمپیوٹر سائنس 83 فیصد ، نازنین تبسم 72 فیصد بی پی سی ، توحید سلطانہ بی کام سکنڈ ایر ، محمد ارشد ایم پی سی 70 فیصد نمبرات ، عائشہ بیگم 89 فیصد ایم بی ایچ ڈبلیو ، سمرین بیگم 89 فیصد ایم بی ایچ ڈبلیو ، اور محمد عدنان کمپیوٹر سائنس 89 فیصد کو اسٹار آف فیض عام کا اعزاز دیا گیا ۔ منیجر و کیرئیر کونسلر سید عبدالستار نے کارروائی چلائی ۔ محمد اعظم خاں نے انتظامات کی نگرانی کی ، ارکان عملہ بھی موجود تھے ۔۔